سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 333
۳۳۳ کئے جاتے ہیں جو ہر لحاظ سے باقی انسانوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتایا ہے کہ ان کے ماننے والے ایمان لانے کے بعد ان شکلوں کے ہو جاتے ہیں۔ان صفات کے ہو جاتے ہیں۔ان انعامات کے مور د ہو جاتے ہیں۔خدا تعالٰی سے یہ یہ رحمتیں ان کو نصیب ہوتی ہیں۔یہ یہ فضل عطا کئے جاتے ہیں۔آج جماعت احمدیہ کی تصویر ان آیات میں موجود ہے۔لاکھ دنیا شور مچاتے۔چیخنے چلاتے تمہیں گالیاں دے ظلم وستم کا بیڑا اٹھاتے مگر ان تین آیات (سورۃ بقرہ ۲۷۱ تا ۲۷۳) میں جو مضمون بیان ہوا ہے اسے جماعت احمدیہ کوئی چھین نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔ہر پہلو سے یہ مضمون خدا کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ کے اوپر پورا اترتا ہے۔خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے جانتے ہیں۔ان کی اولادیں جانتی ہیں۔ان کی اولاد در اولاد جانتی ہے کہ جن لوگوں نے بھی خدا کی خاطر کچھ خرچ کیا تھا خدا تعالیٰ نے انہیں بڑھ چڑھ کر عطا کرنے میں کوئی نسبت ہی نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔۔۔کتنا عظیم الشان مقام ہے اللہ خرچ کرنے والوں کا اور کتنا بڑا احسان ہے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا کہ اس زمانہ میں نہیں صحابہ کی خصلتیں عطا فرما دیں اس زمانہ سے چودہ سو سال دور بیٹھے ہوتے لوگوں کو مختلف خواص کے لوگوں کو مختلف براعظموں کے لوگوں کو الغرض ساری دنیا تک حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیض پہنچا دیا۔تحریک جدید کی جو تحریک حضرت مصلح موعود نے نہ میں فرمائی تھی اس کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا یہی سلوک ہو رہا ہے۔ایک اور رنگ میں اللہ تعالیٰ کا سلوک اضعافا مضاف ہوا کرتا ہے تحریک جدید نے جو کچھ بھی خدا کی راہ میں خرچ کیا ہر آئندہ سال اسے بہت بڑھ کر خدا تعالیٰ نے پھر عطا کر دیا اور یہ سلسلہ حیرت انگیز طور پر مسلسل آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔جتنے چندے بڑھے ہیں یہ سب تحریک جدید کے چندے کے بچے ہیں اگر ان غریب قادیان والوں نے اور ہندوستان کی جماعتوں نے بکریاں بیچ بیچ کر اور کپڑے بیچ بیچ کر اور مینوں روپیہ روپیہ دو دو روپے اکٹھے کر کے تحریک جدید کے چند سے نہ دیتے ہوتے تو آج کروڑوں تک بجٹ نہیں پہنچ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔جتنے چندے آپ کو اس وقت یورپ اور امریکہ اور افریقہ اور دیگر جماعتوں میں نظر آرہے ہیں یہ سارے تحریک جدید کے ان چندوں کی برکتیں ہیں جو آغاز میں دیئے گئے تھے اور بڑی خاص معاؤں کے ساتھ دیتے گئے تھے۔ان چندوں میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے صحابہ شامل تھے۔مه وله