سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 323 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 323

آپ لوگوں کا فرض ہے ایک دفعہ ایک پرائیویٹ میٹنگ کے موقعہ پر سردار سکندر حیات خان کے مکان بے چوہدری افضل حق صاحب ( ایک مشہور احراری لیڈر نے مجھے یہ کہا تھا کہ ہمارا مقصد یہی ہے کہ احمدیہ جماعت کو کچل دیں۔پس دشمنوں نے میں چیلنج دیا ہے۔پس جبتک تمہاری رگوں میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی ہے تمہارا فرض ہے کہ اس چیلنج کو منظور کرتے ہوئے اس گروہ کے زور کو جو یہ دھمکیاں دے رہا ہے توڑ کر رکھو۔اور دنیا کو تبا دو کہ تم پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر سکتے ہو۔سمندروں کو خشک کر سکتے ہو اور جو بھی تمہارے تباہ کرنے کے لیے اُٹھے وہ خواہ کس قدر طاقت ور حریف کیوں نہ ہو اسے خدا تعالیٰ کے فضل سے اور جائز ذرائع سے تم مٹا سکتے ہو۔کیونکہ تمہارے مٹانے کی خواہش کرنے والا درحقیقت خدا تعالیٰ کے دین کو مٹانے کی خواہش کرتا ہے۔اس چیلنج کو ہم نے قبول کرنا ہے۔میں نے شروع میں اس چیلنج کو نظر انداز کر دیا تھا اور اسے ایک احمقانہ چیلنج سمجھا تھا۔مگر ان کے اخبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ پھر قادیان آ کر بھی انہوں نے اسی چیلنج کو دہرایا ہے۔ماله پس جیسا کہ حکومت پنجاب کے بعض افراد نے سلسلہ کی ہتک کی ہے۔احرار کا بھی چیلینج موجود ہے اور آپ لوگوں کا کام ہے کہ بنک کا بھی ازالہ کریں اور چیلنج کا بھی جواب دیں اور ان دونوں باتوں کے لیے جو بھی قربانیاں کرنی پڑیں۔کریں یا خبر بہ مطبوع الفضل یکم نومبر انت ) جماعت کا والہانہ رد عمل : جماعت نے اس چیلنج کا جواب دیتے ہوئے بقول ایک احمدی شاعر ( مولوی برکت علی صاحب لاتی لدھیانوی ) کمات خار ظلم ناروا سو بار اُلجھے غم نہیں ! ہم بھریں گے آخرش پھولوں سے اپنی جھولیاں کیا ہے گر کانٹے بچھے ہیں راہ میں دلدارہ کی ہم قدم رکھ دیں گے بڑھ کر دھار پر تلوار کی یہ جماعتی رو عمل صرف شاعری یا زبانی جمع خرچ نہیں تھا بلکہ قربانی کے ہر میدان میں نئے ریکارڈ قائم ہونے گئے۔حضور نے ساڑھے ستائیس ہزار روپے کا مطالبہ کیا تھا جماعت نے لاکھوں روپے پیش کر دیتے۔حضور نے واقفین زندگی کا مطالبہ کیا تھا جماعت کے پڑھے لکھے افراد نے اپنی زندگیاں وقف کیں ا ے