سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 321 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 321

۳۲۱ زمانہ کولیا کر دیا نہ علوم اس نے یہ زمانہ سو سال تک پھیلا دیا ہے یا ڈیڑھ سو سال تک لیکن بہر حال یہ زمانہ تین سو سال گزرنے سے بہت پہلے آئے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علی السلام فرما چکے ہیں کہ ابھی تیری صدی پوری نہیں ہوگی کہ احمدیت کو کامل غلبہ حاصل ہو جائے گا اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا اور یہ وسیع کامیابیاں اگر تین سوسال سے پہلے آتی ہیں تو لازماً اس کامیابی کے ابتدائی دور سے پہلے یہ تکلیفیں جماعت کو پہنچنی ہیں نہیں ہمارے لیے خون کی ندیوں میں سے گذرنا مقدر ہے اور وہ زمانہ ہر حال تین سو سال سے پہلے ہے۔اس وجہ سے جب تک اس قسم کی ذہنیت رکھنے والے نفوس ، ہمارے اندر شامل نہ ہوں جن کے چہروں سے ہی یہ ظاہر ہو رہا ہو کہ اگر ہیں آمروں سے چیر دیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے ہم احمدیت سے منحرف نہیں ہو سکتے۔۔یہ وہ ذہنیت ہے جس کے مطابق ہمیں اپنے نفوس میں تغیر پیدا کرنا چاہیئے۔بے شک مجھے ان تمام باتوں پر یقین ہے مگر میرا یقین تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اگر تم چاہتے ہو کہ تم اور تمہاری نسلیں آئندہ نا کامی کا منہ نہ دیکھیں تو خیالات کی وہ رو جو میں پیدا کرنا چاہتا ہوں اسے اپنے اور اپنی آئندہ نسلوں کے دلوں میں پیدا کرو۔جب خیالات کی یہ کرو چل پڑے گی تو تمہاری آئندہ نسلیں بالکل محفوظ ہو جائیں گی۔میں یہ نہیں کہتا کہ جن مصائب کا میں نے ذکر کیا ہے یہ ضرور میری زندگی میں آئیں گے۔ہو سکتا ہے کہ یہ میری زندگی میں نہ آئیں، لیکن اگر تم اپنے اندر یہ ذہنیت پیدا کر لو گے تو یقیناً تمہاری اولادوں کے قدم بھی لڑکھڑانے سے محفوظ رہیں گے اور اگر یہ ذہنیت پیدا نہیں کرو گے تو خود تمہارے قدم بھی لڑکھڑا جائیں گے۔ایک کشمیری کا بیٹا کشمیری ہوتا ہے اور پٹھان کا پٹھان۔اسی طرح اس ذہنیت کے نتیجہ میں جو تمہارے ہاں اولاد ہو گی وہ بھی اسی ذہنیت کی حامل ہوگی۔۔۔اگر کسی کو بنیائی نصیب نہیں اور وہ موجودہ حالات میں آئندہ کے واقعات کو نہیں دیکھ سکتا تو میں اسے کہوں گا کہ جاؤ اور قرآن کریم پڑھو اور اندھوں کی طرح اس کی آیتوں پر سے ست گزرو تم جاؤ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کا مطالعہ کرو مگر نا بینوں اور بہروں کی طرح ان پر سے مست گزارو۔تم ان دونوں کو دیکھیو اور پھر سوچو کہ کیا وہاں یہ لکھا ہے کہ تمہیں کانٹوں کے بستر پر سونا پڑے گا اگر تمہیں یہ دکھائی دے کہ وہاں یہی لکھا ہے کہ تمہارے لیے پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کے