سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 290
۲۹۰ رازوں سے واقف ہے اگر تو جانتا ہے کہ ہمارے دلوں میں واقعی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت نہیں۔اور ہم آپ کو سارے انبیاء سے افضل و برتر یقین نہیں کرتے اور نہ آپ کی غلامی میں نجات سمجھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا ایک خادم اور غلام نہیں جانتے بلکہ درجہ میں آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلند سمجھتے ہیں۔تو اسے خُدا ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو اس جہاں میں ذلیل ورسوا کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک کر۔اس کے مقابلے میں وہ دُعا کریں کہ اسے خدا ہم کامل یقین رکھتے ہیں کہ احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ، آپ کی تحقیر و تذلیل پر خوش ہوتے اور آپ کے درجہ کو گرانے اور کم کرنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں۔اے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو تو اس دنیا میں ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو ذلیل و رسوا کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک کر۔یہ مباہلہ ہے جو وہ ہمارے ساتھ کرلیں اور خدا پر معاملہ چھوڑ دیں۔پانچ سو یا ہزار کی تعداد میں ایسے علماء کا اکٹھا کرنا جو ہمارے سلسلہ کی کتب سے واقفیت رکھتے ہوں آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کے نمائندہ کہلانے والوں کے لیے کوئی مشکل نہیں بلکہ معمولی بات ہے۔اور ہم تو ان سے بہت تھوڑے ہیں مگر پھر بھی ہم تیار ہیں کہ پانچ سو یا ہزار کی تعداد میں اپنے آدمی پیش کریں۔شرط صرف یہ ہے کہ جن لوگوں کو وہ اپنی طرف سے پیش کریں وہ ایسے ہوں جو حقیقت میں اُن کے نمائندہ ہوں۔اگر وہ جاہل اور بے ہودہ اخلاق والوں کو اپنی طرف سے پیش کریں تو ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا بشر طیکہ وہ یہ تسلیم کرلیں کہ وہ ان کی طرف سے نمائندہ ہیں۔ہاں احرار کے سرداروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس میں شامل ہوں۔مثلاً مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب شامل ہوں۔مولوی حبیب الرحمان صاحب شامل ہوں۔مسٹر مظہر علی اظہر شامل ہوں۔چودہری افضل حق صاحب شامل ہوں۔مولوی داؤد غزنوی صاحب شامل ہوں اور ان کے علاوہ اور لوگ جن کو وہ منتخب کریں شامل ہوں۔پھر کسی ایسے شہر میں جس پر فریقین کا اتفاق ہو یہ مباہلہ ہو جاتے۔مثلاً گورداسپور میں ہی یہ مباہلہ ہو سکتا ہے۔جس مقام پر انہیں خاص طور پر ناز ہے یا لاہور میں اس قسم کا اجتماع ہو سکتا ہے۔ہم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر اللہ تعالیٰ کا مذاب نازل ہو۔اگر ہم رسول کریم صلی الہ