سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 289
۲۸۹ کے حضور دعائیں کیں اور قادیان وہ مقدس مقام ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مقدسہ کا خدا تعالیٰ نے دوبارہ حضرت مرزا صاحب کی صورت میں نزول کیا۔یہ مقدس ہے باقی سب دنیا سے مگر تابع ہے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے۔پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے تو احمدی خوش ہوں گے وہ جھوٹ بولتا ہے وہ افتراء کرتا ہے اور وہ ظلم اور تعدی سے کام لے کر ہماری طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جو ہمارے عقائد میں داخل نہیں اور ہم اس شخص سے کہتے ہیں لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔تے ہم تو سمجھتے ہیں کہ عرش سے خدا مکہ اور مدینہ کی حفاظت کر رہا ہے۔کوئی انسان ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ہاں ظاہری طور پر ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی دشمن پر ان مقدس مقامات پر حملہ کرے تو اس وقت انسانی ہاتھ کو بھی حفاظت کے لیے بڑھایا جائے لیکن اگر خدانخواستہ کبھی ایسا موقعہ آئے تو اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائیگا کہ حفاظت کے متعلق جو ذمہ داری خدا تعالیٰ نے انسانوں پر عائد کی ہے اس کے ماتحت جماعت احمدیہ کسی طرح سب لوگوں سے زیادہ قربانی کرتی ہے ہم ان مقامات کو مقدس ترین مقامات سمجھتے ہیں۔ہم ان مقامات کو خدا تعالیٰ کے جلال کے ظہور کی جگہ سمجھتے ہیں اور ہم اپنی عزیز ترین چیزوں کو اُن کی حفاظت کے لیے قربان کرنا سعادت دارین سمجھتے ہیں۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو شخص ترچھی نگاہ سے مکہ کی طرف ایک دفعہ بھی دیکھے گا۔خُدا اس شخص کو اندھا کر دے گا۔اور اگر خدا تعالیٰ نے کبھی یہ کام انسانوں سے لیا تو جو ہا تھ اس بد میں آنکھ کو پھوڑنے کے لیے آگے بڑھیں گے ان میں ہمارا ہاتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے۔سب سے آگے ہو گا۔" ) الفضل ٣ ستمبر ۱۹۳۵ ) احرار کے ان بے سروپا الزامات کی مدلل و مسکنت تردید سے آگے بڑھ کر حضور نے انہیں مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا : دوسرا طریق یہ ہے کہ ان مخالفین میں سے وہ علما م جنہوں نے سلسلہ احمدیہ کی گتب کا مطالعہ کیا ہوا ہو پانچ سو یا ہزار میدان میں نکلیں ہم میں سے بھی پانچ سو یا ہزار میدان میں نکل آئیں گے۔دونوں مباہلہ کریں اور دعا کریں کہ وہ فریق جو حق پر نہیں خدا تعالیٰ اسے اپنے عذاب سے ہلاک کرے۔ہم دعا کریں گے کہ اے خدا تو جو ہمارے سینوں کے