سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 250 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 250

۲۵۰ یہ رضا کارانہ خدمات سرانجام دیں اور اپنوں اور غیروں سے خراج تحسین حاصل کیا۔ہندو مظالم کے خلاف قانون کے اندر رہتے ہوئے حقوق کے حصول کی یہ کامیاب جد وجہد بڑی کامیابی سے آگے بڑھ رہی تھی۔مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو رہے تھے۔اور آزادی کی منزل سامنے نظر آنے لگی تھی مگر ہندووں کو یہ بات کسی طرح بھی پسند نہ تھی چنانچہ ہندوؤں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے خلاف اپنے پروپیگنڈہ کا محاذ کھول دیا۔ہندو اخبارہ ملاپ نے لکھا:۔"ریاست کشمیر کو اس بارہ میں اپنی تسلی کر لینی چاہیتے کہ کہیں خلیفہ صاحب ریاست کشمیر کی مسلم آبادی میں اپنے تبلیغی و عظوں سے کوئی سنتے کانٹے نہ ہوائیں املاپ ۲۲ ر خون شسته الفضل ۲۸ جون شسته ) تبلیغی و عفوں کی طرف سب سے پہلے توجہ دلانے والا اور حکومت کشمیر کو خبر دار کرنے والا یہ متعصب آریہ اخبار تھا۔اس اخبار نے اس موضوع پر مختلف مواقع پر نیش زنی کرتے ہوئے یہ بھی تحریر کیا کہ : قادیانی سازش کا نتیجہ ہے کہ کشمیر کے امن پسند مسلمان اب شورش اور شرارت اور بغاوت کے شرارے بن چکے ہیں۔اب کشمیری مسلمانوں کو وہ پہلے جیسا صلح جو میانہ رو اور علیم الطبع انسان نہ سمجھو بلکہ قادیانی روپیہ نے۔قادیانی پراپیگنڈہ نے اور قادیانی گدی کے خلیفہ کی حرص و آز نے ان کشمیری مسلمانوں کو مرنے مارنے پر تیار کر دیا ہے۔مسئلہ کشمیر اور ہندو مہاسبھائی صفحہ ۹۵) "مرزا قادیانی نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی اسی غرض سے قائم کی ہے تاکہ کشمیر کی موجودہ حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے " اپ یکم اکتوبر سته مه مسئلہ کشمیر اور ہندو مہاسبھائی مثه ) ( " کشمیر کے چاروں طرف مسلمان حکومتیں ہیں۔کشمیر پر اگر اسلامی جھنڈا لہرایا تو گورنمنٹ کے لیے خطرناک ہوگا " طلای ۱۸ اگست راستہ مسئلہ کشمیر اور بند و مهاسھاتی منگا ) ہندوؤں کی طرف سے ایسا پراپیگینڈہ تو غیر متوقع بات نہ تھی کیونکہ ان کے نزدیک تو مسلمانوں کی ترقی میں جھوٹ اور ظلم کی تباہی تھی مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض نام نہاد مسلمانوں نے بھی اسلامی