سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 240
۲۴۰ میں زبر دست جلسے ہوئے۔جن سے مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور مظلومین کشمیر سے ہمدردی ملک کے گوشہ گوشہ میں پہنچ گئی۔یہ ایسی کامیابی تھی جو ڈوگرہ حکومت بلکہ انگریزی حکومت کے وہم وگمان میں بھی نہ آ سکتی تھی۔اندرون کشمیر بھی اس دن اس طرح جلسے ہوتے کہ کوئی جگہ اور کوئی شخص پوری وادی اور جمہوں میں ایسا نہ رہا جو ڈوگرہ حکومت کے مظالم سے پوری طرح واقف ہوکر سراپا احتجاج نہ بن گیا ہو جوں کے ملبوس پر جونے اور پرامن شہریوں پر شتمل تھا پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجہ میںایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔حضور نے نہایت پر حکمت طریق پر اس حکم کی تصاویر حاصل کر کے ہندوستان اور انگلستان کے اخبارات میں اس ظلم کی وسیع پیمانہ پر اشاعت کروائی۔وائسرائے ہند کو بذریعہ تار متنبہ کیا گیا کہ وہ حالات کے قابو سے باہر ہو جانے سے قبل فوری طور پر ان مظالم کے تدارک کی موثر کوشش کریں۔اس کے ساتھ ہی حضور نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے احمدی مشنوں کو ہدایت کی کہ وہ ڈوگرہ حکومت کے مظالم اور مسلمانوں کی حالت زار کے متعلق حقائق دنیا کے سامنے پیش کریں۔اس کا میاب : صم کا ذکر کرتے ہوئے نمائندہ انقلاب " مولانا غلام رسول مہر نے لندن سے لکھا :- کشمیری مسلمانوں کے تعلق میں برطانوی جرائد کا رویہ پہلے کی نسبت بہتر ہے اور اس میں بلا شما تبہ ریب مولوی فرزند علی صاحب امام مسجد احمد یہ لندن کا بڑا حصہ ہے جو شروع سے لیکر کشمیر کے تعلق میں اور دوسرے اسلامی مسائل کے تعلق میں مسلسل جدوجہد فرماتے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں۔اخبارات میں جو خبریں شائع ہوتی رہیں ان کے علاوہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی طرف سے متعدد تارہ موصول ہوئے جن کی کاپیاں ایک ایک مسلم مندوب کے پاس بھیجی جاتی رہیں " ) انقلاب ۱۹ نومبر را بحواله الفضل ۲۴ نومبر ۳ اس پہلے یوم کشمیر کی کامیابی کے متعلق کشمیر کی کہانی " کے مصنف لکھتے ہیں کہ :- ار اگست کا کشمیر ڈے اور اس کی کامیابی تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کی سب سے پہلی اور نہایت مضبوط اینٹ تھی جو حضرت مصلح موعود کے ہاتھوں رکھی گئی۔یہ کیسا عجیب خدائی تصرف ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کی بحالی کے لیے وسیع پیمانہ پر باقاعدہ ہم کے آغاز کے لیے حضور نے جو تاریخ مقرر فرمائی وہ خدا تعالیٰ کے ہاں اتنی مقبول ہوئی کہ یوم کشمیر کے کامیاب مظاہرے جہاں کشمیریوں کے حقوق کی بحالی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں وہاں سولہ سال بعد