سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 239 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 239

۲۳۹ مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ان کے تمیں لاکھ بھائی بے زبان جانوروں کی طرح قسم قسم کے ظلموں کا تختہ مشق بناتے جارہے ہیں۔جن زمینوں پر وہ ہزاروں سال سے قابض تھے ان کو ریاست کشمیر اپنی ملکیت قرار دیگه نا قابل برداشت مالیه وصول کر رہی ہے۔درخت کاٹنے۔مکان بنانے۔بغیر اجازت زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں۔اگر کوئی شخص کشمیر میں مسلمان ہو جائے تو اس کی جائیداد ضبط کی جاتی ہے بلکہ کہا جاتا ہے اہل وعیالی بھی اس سے زبر دستی چھین کر الگ کر دیتے جاتے ہیں۔ریاست جموں و کشمیر میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں۔انجمن بنانے کی اجازت نہیں۔اخبار نکالنے کی اجازت نہیں۔غرض اپنی اصلاح اور فلموں پر شکایت کرنے کے سامان بھی اُن سے چھین لیے گئے ہیں۔وہاں کے مسلمانوں کی حالت اس شعر کی مصدق ہے۔نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے گھٹ کے مرجاؤں یہ مرضی میر صیاد کی ہے " کا الفضل راگست ماه ) حضور کی اس تحریک پر ملک بھر میں زبر دست جلسے ہوئے۔قادیان میں مردوں اور عورتوں کے الگ الگ جلسے ہوئے - ایک عظیم الشان جلوس نکالا گیا۔چندہ جمع کیا گیا اور مظلومن کشمیر کی دادرسی کے لیے قرار دادیں پاس کی گئیں۔متحدہ ہندوستان کے تمام مقامات پر بہت جوش و خروش سے یہ دن منایا گیا۔چنانچہ دیوبند کے جلسہ میں مولوی محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم - مولوی حسین احمد صاحب مدنی اور مولوی میرک شاہ صاحب کی تقریریں ہوتیں۔لاہور کا جلسہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کی صدارت میں ہوا جس میں ایک لاکھ مسلمان شریک ہوئے۔کلکتہ کے جلسہ کی صدارت حسین شہید سہروردی صاحب نے کی بہتی ہیں شاندار جلوس نکالا گیا۔جلسہ میں مولوی شوکت علی صاحب نے تقریر کی۔سیالکوٹ میں ڈوگرہ حکومت کے مظالم کے خلاف پر جوش مظاہرہ کیا گیا۔پٹنہ میں مولوی شفیع داؤدی صاحب کی صدارت میں جلسہ ہوا۔علی گڑھ میں حاجی محمد صالح خان صاحب آنریری مجسٹریٹ - خالق دنیا ہال کراچی میں جلسہ کی صدارت حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون نے کی۔اس طرح اخبار الفضل کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دہلی - پونا۔لکھنو - رنگون - مالابار گیا۔حیدرآباد - بنگال - بنگلور- بہار- اٹر لیہ اور بیشمار قصبات