سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 24 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 24

خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔سچائی کو اختیار کریں۔اپنے مقصد کو ہر وقت اپنے سامنے رکھیں۔اپنے آپ کو کام کے نتائج کا ذمہ دار قرار دیں۔اگر کوئی قصور ہو تو سزا برداشت کرنے کے لیے تیار رہیں۔اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ جو شخص قوم کے لیے فنا ہوتا ہے وہ فنا نہیں ہوتا۔جنگ قوم زندہ ہے اس وقت تک ہی حقیقی زندگی باقی ہے۔قومی زندگی کے قیام کے مقابلہ میں انفرادی قربانی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔صرف اپنی ہی اصلاح نہ کریں بلکہ ماحول کی بھی اصلاح کریں۔غور و فکر کی عادت ڈالیں اور عقل سے کام لیں۔اطاعت کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں۔ہمیشہ یہ خیال رکھیں کہ جماعت کا قدم ترقی کی طرف ہی بڑھے " الفضل ۲۷ دسمبر ۹۳ة ) مجلس کا انتظام : مجلس خدام الاحمدیہ ایک منتخب صدر کی قیادت میں کام کرتی ہے جسے دنیا بھر کی مجالس کے نمائندے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر ہر دو سال کے بعد منتخب کرتے ہیں۔صدر مجلس کی جملہ سرگرمیوں کا نگران اور اس کے لائحہ عمل کو کامیابی سے چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔صدر مجلس کو حضرت خلیفقہ اسح کی نگرانی میں مجلس سے متعلق جملہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔(خلافت رابعہ میں اس انتظام میں کسی قدر تبدیلی کی گئی ہے اور ہر ملک کی مجلس کا صدر براہ راست خلیفتہ المسیح کی نگرانی میں کام کرتا ہے) مجلس خدام الاحمدیہ کے پہلے صدر مولوی قمر الدین صاحب مقرر ہوتے تھے۔اس کے ایک سال بعد ۱۹۳۹ میں حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد مجلس کے صدر منتخب ہوئے۔اس وقت سے اہ تک اپنی غیر معمولی خدمات اور صلاحیتوں کی وجہ سے آپ ہی اس عہدہ کے لیے منتخب ہوتے رہے۔اکتوبر 190 میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مجلس کی صدارت کے فرائض خود سنبھال لیے اس تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : " میں نے یہ قدم اس لیے اُٹھایا ہے کہ نو جوانوں کو زیادہ تر دین کی طرف مائل کیا جاتے۔جہاں