سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 23 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 23

بھی آکر کہتے ہیں کہ حضور ہمارے لیے دُعا کیجئے۔احمدیوں کے بڑھے تو اقطاب ہونے چاہئیں۔اور احمدیوں کے جوان ابدال ہونے چاہئیں۔وہ خوب دُعائیں مانگیں اور اللہ تعالٰی نے ایسی محبت کریں کہ وہ اپنے فضل سے ان سے بولنے لگ جاتے اور وہ جوانی میں ہی وہ صاحب کشف و کرامات ہو جائیں اور محلہ کے لوگوں کو جب مصیبت پیش آئے وہ دوسرے دوڑے ایک خادم احمدیت کے پاس آتیں اور اگر کہیں کہ دعا کرو ہماری یہ مصیبت ٹل جائے۔جب تم جذبہ اخلاص سے ان کے لیے دُعا کرو گے تو پھر خدا تمہاری دعائیں بھی زیادہ قبول کرنے لگ جائے گا۔اور لوگوںکو ماننا پڑے گا کہ تمہاری دعا ایک بڑی قیمتی چیز ہے؟ ) الفضل ۲ مارچ ۱۹۵۶ اس مجلس کی غیر معمولی افادیت اور وسیع و گہرے اثرات کو دیکھتے ہوتے جو نائی نگاہ میں آپ نے تمام احمدی نوجوانوں کے لیے اس مجلس میں شمولیت کو لازمی قرار دے دیا۔چنانچہ مجلس شور می ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :- میں جماعتوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں نے اس سال یہ پابندی عائد کر دی ہے کہ وہ تمام نوجوان جو پندرہ سال سے چالیس سال تک کی عمر کے ہیں وہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہو جائیں۔۔۔۔۔۔چونکہ اس وقت تمام جماعتوں کے نمائندے جمع ہیں۔اس لیے میں پھر اس معاملہ کو دوستوں کے سامنے پیش کرتا ہوں “ رپورٹ مجلس مشاورت ۹۲۷ ه ص ۱۲ ( سید نا حضرت خلیفتہ البیع الثانی کے ارشادات کی روشنی میں مجلس خدام الاحمدیہ کے لائحہ عمل کے نمایاں امور مندرجہ ذیل قرار پائے۔خدام احمدیت کے متعلق اپنے دلوں میں جذبہ احترام پیدا کریں۔استقلال کا مادہ پیدا کریں۔محنت کی عادت ڈالیں۔ہر ہدایت کی پوری پوری اطاعت کریں اور اپنے اجتہادات اور قیاسات سے کام لینے سے اجتناب کریں۔وسعت نظرہ پیدا کریں اور حالاتِ حاضرہ سے گہری واقفیت حاصل کریں۔دیانت کی روح پیدا کریں۔