سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 209
نہایت وضاحت اور تفصیل کے ساتھ میں نے ان اصول کا ذکر کیا۔اس کے بعد 19۔میں جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے اپنے لیکچر میں جو سیاسیات عالم کے متعلق تھا اس امر کو بڑی تفصیل سے بیان کیا تھا اور بتایا تھا کہ جب تک قرآنی اصول پر لیگ آف نیشنز کی بنیاد نہیں رکھی جائے گی اس وقت تک دنیا بین الاقوامی جھگڑوں سے کبھی امن حاصل نہیں کرسکتی۔آج لیگ آف نیشنز اگر اپنے مقصد میں ناکام ہوتی ہے تو اسی وجہ سے کہ ان اصول کو اس نے اپنے نظام میں شامل نہیں کیا تھا انہی اصول میں سے ایک اصل میں نے یہ بیان کیا تھا کہ یہ خیال کر لینا کہ اس نظام کے قیام کے لیے کسی فوجی طاقت کی ضرورت نہیں نادانی حماقت ہے۔یہ نظام قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ساتھ فوج کی بہت بڑی طاقت نہ ہوتا کہ جب بھی کوئی قوم بیگ آف نیشنز کے فیصلہ کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے اسے اپنے ناجائز طریق عمل سے روک دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یور بین لوگوں کی طرف سے ہمیشہ ہی کا گیا کہ یہ بالکل غلط ہے ہم تو دنیا کو لڑائی سے بچاتا چاہتے ہیں اور آپ پھر ایسی تجویز پیش کر رہے ہیں جس میں فوج اور طاقت کا استعمال ضروری قرار دیا گیا ہے۔انگلستان میں جب میرے لیکچر ہوتے تو ان کے بعد عام طور پر لوگ یہی کہا کرتے کہ نہیں تو وہ پرانی جنگی سپرٹ ہے جو دنیا میں پہلے سے قائم ہے ہمارے نزدیک یہ تجویز درست نہیں۔ہم نے لیگ کے اُصول ایسے رکھتے ہیں جن میں فوجی طاقت کو استعمال کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آسکتی۔اس کے اصول میں یہی روح کام کر رہی ہے کہ فوجی طاقت سے نہیں بلکہ دوسروں کو سمجھا کر صلح اور پیایہ کی طرف مائل کیا جائے ----- یورپین مدبرین نے اس وقت میری بات کو قابل اعتنا نہ سمجھا مگر آج تمام مدبرین یک زبان ہو کر کہ رہے ہیں کہ لیگ آف نیشنز کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس فوجی طاقت نہیں ہے۔اگر اس کے پاس فوجی طاقت ہوتی تو اس کا یہ انجام نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رحضور نے اس کے بعد قرآن مجید کا یہ اصول بیان فرما یا که مفتوح قوم پر اپنا غصه نه نکالو بلکہ جھگڑے کی حد تک اپنے فیصلے کو محدود رکھو۔حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مفتوح وم کوظلم وستم کا نشانہ نہ بناو ناجات پابندیاں یو یا دباؤ نہ ڈالو اگر تم ایسا کروگے تو اس کے نتیجہ میں پھر فساد پیدا ہو گا پھر بدامنی پیدا ہوگی پھر لڑائی شروع ہوگی اور پھر دنیا