سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 205
خاتمه جنگ : ۲۰۵ جنگ کے خاتمہ کے متعلق حضور نے فرمایا :- جہاں تک جنگ کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ نہ تک یا ہوسکتا ہے۔تک یا اس سے پہلے اگر خدا چاہیے ختم ہو جائے گی " حضور کا یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب جاپان نہ صرف جنگ کو لمبا لے جانے کے دعوائے کر رہا تھا بلکہ ان کی طرف سے یہ بھی دعوی کر دیا گیا تھا کہ : " جاپان بہت جلد اس پوزیشن میں ہو جاتے گا کہ امریکہ سے غیر مشروط طور ہتھیار ڈالو تے امریکہ کو بھی جاپان کی جنگی طاقت اور عزائم کا پوری طرح احساس تھا چنانچہ صدر ٹرومین نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ جاپانیوں کے پاس چالیس لاکھ مسلح فوج موجود ہے جو اس جرمن فوج سے بہت زیادہ ہے جس سے ہمیں مغربی یورپ میں مقابلہ تھا۔جاپان ابھی مزید فوج بھرتی کر سکتا ہے ابھی تک ہمیں جاپان کی بڑی فوجی طاقت سے سامنا نہیں ہوا۔جاپانی ہوائی طاقت میں ابھی تین ہزار سے زائد جنگی طیارے موجود ہیں اور بمباری کے باوجود جاپان ابھی تک ہر ماہ ایک ہزار سنتے طیار سے تیار کر رہا ہے۔ان مخالف و موافق اندازوں کے مطابق جنگ ابھی ایک لمبے عرصہ تک چلنے والی تھی مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے غیر معمولی تصرفات ہوتے کہ جنگی فنون کے ماہرین کے سب اندازوں کے برعکس حضور کے ارشاد کے مطابق جنگ شاہ میں ختم ہو گئی ہے گفته او گفته الله بود گرچه از حلقوم عبدالله بود حضور اپنے اس انکشاف کی بنیاد بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :-۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ عجیب بات ہے کہ جس دلیل پر میری بنیاد تھی کہ تحریک جدید کے آخری سال (پہلے دور کا آخری سال کے اختتام پر یہ جنگ ختم ہوگی میری وہ بات اس رنگ میں پوری ہوتی کہ جنگ نہ صرف اسی سال اور اسی مہینہ میں ختم ہوئی جوئیں نے بتایا تھا بلکہ عین سات مئی کو آکر شیر دگی کے کاغذات پر دستخط ہوتے چونکہ وعدوں کی ادائیگی کے لیے ایک سال مقرر ہے۔اس لیے دس سالہ دور تحریک کے چندوں کی ادائیگی کی آخری تاریخ حسب قاعدہ کے رمتی ۱۳۵ تہ ہوتی ہے اور اسی تاریخ کو سپردگی کے کاغذات پر جرمنی کے نمائندوں نے دستخط کئے۔گویا قانونی طور پر عین اسی تاریخ پر اگر جنگ