سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 200
۲۰۰ کے درمیان جو تالاب ہے اس میں قوموں کی لڑائی ہورہی ہے۔مگر بظا ہر چند آدمی رسرکشی کرتے نظر آتے ہیں۔اور کوئی شخص کہتا ہے کہ اگر یہ جنگ یونان تک پہنچ گئی تو یکدم حالات میں تغیر پیدا ہو جائے گا اور جنگ بہت اہم ہو جائے گی۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ اعلان ہوا ہے کہ امریکہ کی فوج ملک میں داخل ہو گئی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ امریکہ کی فوج بعض علاقوں میں پھیل گئی ہے۔مگر وہ انگریزی حلقہ اثر میں آنے جانے میں کوئی روکاوٹ نہیں ڈالتی۔یہ رویا نہ کے شروع میں میں نے اُس وقت دیکھا تھا۔جب کسی کے وہم اور گمان میں بھی یہ بات نہیں آتی تھی کہ امریکن گورنمنٹ اس لڑائی میں شامل ہو جائے گی۔مگر پھر ایسے حالات بدلے کہ امریکہ کو اس جنگ میں شامل ہونا پڑا۔یہاں تک کہ امریکن فوجیں ہندوستان میں آگئیں۔چنانچہ اب کراچی اور بہتی ہیں جگہ جگہ امریکن سپاہی دیکھے جاسکتے ہیں۔الموعود ص ) خُدائی نشانات کے اس ایمان افروز تذکرہ کو مختصر کرتے ہوئے حضور کے ایک ایسے بروقت اور مدیرانہ مشورہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو آپ نے روس کی حکومت کے ایک اقدام کے متعلق برطانیہ کی حکومت کو دیا۔جنگ کے انجام کو دیکھتے ہوتے بغیر کسی شک و شبہ کے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس بروقت مشورہ ه بر اس وقت عمل نہ کیا جاتا تو جنگ کا انجام ایک بالکل دوسری صورت میں ہوتا اور اس کے نتیجہ میں دنیا کی تاریخ بالکل مختلف ہوتی۔ستمبر 1925 ء میں جرمنی پولینڈ پر قبضہ کر چکا تھا اور روس نے جرمن سے اپنے معاہدہ کی وجہ سے پولینڈ کے ایک حصہ پر اپنا قبضہ جمالیا تو اس گھمبیر صورت حال میں جبکہ اندیشہ تھا کہ روس اتحادیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہو جائے گا حضور نے برطانوی مدبرین کو مشورہ دیتے ہوئے فرمایا : " باقی رہی موجودہ جنگ۔اگر اتحادی میری بات مانیں تو ان کے لیے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ روس کے پولینڈ پر حمہ کو نظر انداز کر دیں روس نے جو کچھ کیا جرمنی کے حمل کے نتیجہ میں کیا۔پس وہ جرمنی سے کہہ دیں کہ تقسیم تمہارے فعل کا نتیجہ ہے ہم جنگ کے بعد اس کا بدلہ پولینڈ کو تم سے دلوائیں گے اور میرے نزدیک پولینڈ کے قضیہ کا بہترین حل بھی یہی ہے یوکرائن ( UKRAINE ) کا روس کے ساتھ شامل ہونا پولینڈ کو مضبوط کرتا ہے کمزور نہیں۔پھر کیا حرج ہے کہ اسے روس کے پاس ہی رہنے دیا جائے۔جب جنگ میں اللہ تعالیٰ فتح