سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 187 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 187

JAL تو لوگ عام طور پر جرمنی کی خبروں کو زیادہ وقعت دے دیتے ہیں اور انگریزوں اور فرانسیسیوں کی خبروں کو اپنی نادانی سے غلط سمجھتے ہیں اور پھر ان خبروں کو بھی ایسے مبالغہ آمیز رنگ میں بیان کرتے ہیں کہ بات کچھ کی کچھ بن جاتی ہے اور یہ ہمارے ملک میں عام دستور ہے کہ لوگ بات کو بڑھا کر کہیں کا کہیں لے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔نتیجہ یہ ہے کہ اس قسم کی خبروں کے پھیلنے کی وجہ سے آج ملک میں بغاوت کے آثار نظر آرہے ہیں چنانچہ میں نے سول (CIVIL AND MILITARY GAZETTE) میں پڑھا ہے کہ سکھوں نے اعلان کیا ہے کہ بارہ ڈویژن کی قومی فوج بھرتی کی جائے مطلب یہ کہ سکھ ڈیڑھ لاکھ کی فوج تیار کرنا چاہتے ہیں اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں سے خاکسار بھرتی ہو رہے ہیں اور وہ اپنی ایک الگ فوج بنا رہے ہیں۔گویا ہمارے ملک کے لوگوں کی وہی مثال ہو رہی ہے کہ آب ندیده موزه از پاکشیده " کی کو پانی کے آثار بھی نظر نہیں آئے اور جرابیں ابھی سے اتارنی شروع کر دی گئی ہیں۔آپ ہی آپ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ برطانیہ و فرانس کو جرمنوں کے مقابلہ میں شکست ہو گئی ہے انہوں نے کیلے کو بھی فتح کر لیا ہے انہوں نے ڈنکرک کو بھی فتح کر لیا انہوں نے فلنڈرز کو بھی جیت لیا۔انہوں نے انگلستان کے دارالحکومت پر بھی قابو پالیا انہوں نے پریس بھی لے لیا اور اب انگریز جرمنوں کے مقابلہ میں بھاگتے چلے جارہے ہیں اسی طرح یہ بھی فرض کر لیا گیا کہ ہندوستان میں ان کی کوئی طاقت نہیں رہی اور حکومت بالکل بے دست ویا ہوگئی ہے اس لیے آؤ اب ہم لوٹ مار شروع کر دیں۔اس قسم کے خیالات کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلا کرتا۔اور ہر ہندوستانی کا فرض ہے کہ وہ ان حالات کو درست کرنے کی کوشش کرے اور ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی خاطر اس قسم کی باتوں سے احتراز کرے ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ انگریز انشاء اللہ نہیں ہاریں گے۔۔۔۔۔۔جنگ میں برطانیہ و فرانس کو اب پہلے سے بہت زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل ہو چکی ہے۔اس مہینہ (منی) کی چودہ تاریخ کو کس طرح سمجھا جاتا تھا کہ شاید ایک دو دن میں انگریز اور فرانسیسی ہتھیار ڈال دیں گے اور کس طرح عام طور پر یہ احساس تھا کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں کے لیے اب ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں خود فرانسیسی وزیراعظم نے تقریر