سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 186
۱۸۶ کہ جب فوج کے ڈیفنس کا پہلو اختیار کرنا ہو تو وہ دریاؤں کے پل فوراً اُڑا دیتی ہے تا کہ دشمن اُن کیلوں کے ذریعہ سے ملک کی حدود میں داخل نہ ہو جائے مگر اس جبرئیل نے پلوں کو نہ اُڑا یا نتیجہ یہ ہوا چونکہ جرمنوں کی توپوں سے انکی تو ہیں اور اُن کے ٹینکوں سے ان کے ٹینک کم تھے۔ابتدائی بمبارڈمنٹ کے بعد ہی اتحادیوں کی فوجوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور جرمن فوج بغیر کسی روک کے فلنڈر زمیں گھس آئی۔دوسری غلطی اُن سے یہ ہوئی کہ انہوں نے فوج کے پیچھے دوسری ڈیفنس لائن نہیں بنائی تھی حالانکہ جو فوج ڈیفنس کر رہی ہو اس کے لیے ایک دوسری ڈیفنس لائن ضروری ہوتی ہے تا اگر دشمن کسی جگہ سے پہلے مورچوں کو توڑ دے تو اسے بڑھنے سے روکا جاسکے مگر اُن سے ہی غلطی ہوئی کہ انہوں نے ڈیفنس کی ایک ہی لائن پر اکتفا کی اور جب دشمن نے پہلی صفوں کو توڑ دیا تو اب مقابلہ کے لیے کوئی اور فوج اس کے سامنے نہیں تھی اور سارا فرانس اس کے سامنے کھلا پڑا تھا۔غرض اس جنگ میں ایسے اتفاقات جمع ہوگئے کہ جن کے نتیجہ میں جرمنی کار شعب آپ ہی آپ قائم ہوتا چلا گیا اور لوگوں نے مجھ لیا کہ یہ ہاں بھی ہاتھ مارتا ہے جیت جاتا ہے۔اس کا اثر یہ ہے کہ عام طور پر جنگی فنون سے ناواقفیت کی وجہ سے خیال کیا جاتا ہے کہ جرمنوں کی خبریں زیادہ صحیح ہوتی ہیں اور انگریزوں اور فرانسیسیوں کی خبریں غلط ہوتی ہیں۔حالانکہ میرا تجربہ اس کے بالکل الٹ ہے۔میں جرمن کی خبریں بھی سنتا ہوں اور انگریزوں اور فرانسیسیوں کی خبریں بھی سنتا ہوں مگر مجھ پر یہی اثر ہے کہ ان کی خبریں زیادہ صحیح ہوتی ہیں اور جرمن کی خبروں میں نسبتاً زیادہ جھوٹ ہوتا ہے اور میں تو سمجھتا ہوں اگر کوئی عقلمند انسان صرف ان خبروں کو لے لے جو جرمنی سے ریڈیو کے ذریعہ ہندوستان کے متعلق نشر کی جاتی ہیں تو وہ ان کوسن کر ہی سمجھ سکتا ہے کہ انکی خبروں میں کسی حد تک صداقت پائی جاتی ہے۔چند مہینے کی بات ہے جرمنی سے ریڈیو کے ذریعہ یہ خبر سنائی گئی کہ پنجاب میں سخت بغاوت پھوٹ پڑی ہے جگہ جگہ ڈا کے پڑ رہے ہیں اور انگریزوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ڈر کے مارے وہاں سے بھاگ رہے ہیں حالانکہ ان دنوں چند وزیریوں نے سرحد افغانتان پر کوئی ڈاکہ ڈالا تھا جو ایک معمولی بات تھی مگر اسے پنجاب اور تمام صوبہ سرحد پر پھیلا کر اس زنگ میں بیان کیا گیا کہ گویا پنجاب اور سرحد میں طوائف الملوکی کی حالت ہوگئی ہے۔