سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 170
سالوں میں ان کا عظیم ترین و نمایاں کا رنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے امام جماعت حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی راہنمائی اور آپ کی زیر ہدایات مختلف رائج الوقت کسی غیریکی اہم زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم کہتے ہیں۔جیسے انگریزی - فریج۔روسی - اطالوی اور ہسپانوی وغیرہ - انگریزی ترجمہ جو زیور طباعت سے آراستہ ہو کہ منظر عام پر آچکا ہے دیکھ کر ہم یہ کے بغیر نہیں رہ سکتے کہ قرآن مجید کے جتنے بھی انگریزی تراجم اس سے قبل شائع ہو چکے ہیں یہ ان سب پر فوقیت لے گیا ہے۔کیا بلحاظ طباعت کی خوبی اور دیدہ زیب ہونے کے اور کیا بلحاظ اپنی عمدگی اور ترتیب و با محاورہ ترجمہ ہونے کے اور کیا بلحاظ لفظی ترجمہ کی صحت کے اور کیا بلحاظ اس کی تشریح و تفسیر کے جو جدید سلوب و پیرایہ میں ایک مبسوط تفسیر ہے۔جسے پڑھ کر نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے کہ حضرت امام جماعت علم دین کے رموز و حقائق اور اس کی اعلی درجہ کی تعلیم اور روحانیت سے متعلق جملہ علوم سے غیر معمولی طور پر بہرہ ور ہیں اور دین کے بارہ میں بھر لور علم رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔اس جدید تفسیر کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے اسلام پر اعتراضات کے جواب اصل اسلام کو مد نظر رکھ کر دیتے ہیں۔وہ حقیقی اسلام جس میں تمام لوگ اپنے رب سے ملاقات کا طریق مستقیم پاتے ہیں۔بالخصوص ایسے وقت میں جبکہ سالکین کے سامنے بے شمار راستے رونما ہو چکے ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ اصل راستہ سے بہت دُور جا پڑے ہیں۔جناب امام جماعت احمدیہ نے اپنی اس تفسیر میں دشمنان اسلام کا بخوبی رد کیا ہے بالخصوص منتشرقین کے پیدا کردہ غلط خیالات اور ان کے اعتراضات کا جواب ببینظیر علمی رنگ میں دیا ہے۔اخبار الاردن عمان (شرق الاردن ) ۲۱ نومبر ۹۳له ) اسی طرح عمان کے ایک اور رسالے "وكالة الانباء العربية " نے بھی انگریزی ترجمہ قرآن پر شاندار الفاظ میں تبصرہ کیا اور اسے تمام سابق ترجموں سے بہتر قرار دیا۔وہ لکھتا ہے :- ہمیں عمان میں مقیم جماعت احمدیہ کے اسلامی مبلغ مرزا رشید احمد صاحب چغتائی کے ذریعہ جماعت احمدیہ کا قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ موصول ہوا ہے۔اس کے شروع میں کوئی تین سوصفحات پر مشتمل ایک دیباچہ ہے۔جو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسی انسان