سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 169 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 169

ند 149 انگریزی ترجمہ قرآن مجید : کلام اللہ کے مرتبہ کو ظاہر کرنے اور اشاعت و خدمت قرآن کی جو سعادت حضرت مصلح موعود کو قرآن مجید کے دروں اور جلسہ سالانہ کی تقاریر وخطبات جمعہ کے ذریعہ حاصل ہو رہی تھی اس کی افادیت کے دائرہ کو وسیع کرنے اورغیرمسلم دنیا کو قرآنی حسن و خوبی سے آشنا کرنے کے لیے قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کو اپنی نگرانی میں اس اہم خدمت کی سیر انجام دہی کے لیے مقرر فرمایا۔حضرت میاں صاحب نے ابتداء میں تو بڑی تو جہ اور محنت سے یہ کام کیا مگر تقسیم ملک کے بعد اپنی دیگر علمی و انتظامی مصروفیات کی وجہ سے اس کام کے لیے زیادہ وقت نہ دے سکے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بڑی محنت و عرقریزی - حضور ایدہ اللہ کے نوٹوں سے قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ کا کام کیا۔اس کام کے سلسلہ میں حضرت مولوی صاحب قریباً تین سال انگلینڈ بھی رہے تا زبان وبیان میں کسی قسم کا جھول اور کی نہ رہ جائے۔حضرت مولوی صاحب کے ساتھ اس کام پر ملک غلام فرید صاحب مقرر ہوتے جنہوں نے مولوی صاحب کی وفات کے بعد بھی یہ کام جاری رکھا اور یہ معرکۃ الآراء ترجمہ وتفسیر تین جلدوں میں اس ترتیب سے شائع ہوا۔پہلی جلد اور دیباچہ تفسیر القرآن - جون شلة - دوسرا حصہ ۱۹۳۹ة دوسری جلد ستمبر - تعمیری جلد مارچ ۱۹۶۳ ته اس ترجمہ کی افادیت اس امر سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ فاضل مترجمین نے اس کا آغاز شاہ میں کیا تھا۔ایک ایک لفظ پر غور و فکر کر کے بہترین ترجمہ کرنے کے لیے اس عظیم کام پر کوئی پچاس سال کا عرصہ لگا اور آخری جلد انہ میں شائع ہوئی۔اس ترجمہ سے نومسلموں کی تربیت اور غیرمسلموں میں تبلیغ قرآن کے کام کو بہت پیش رفت حاصل ہوئی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ترجمہ کی صحت اور زبان کی عمدگی کا اعتراف اپنوں اور غیروں نے کیا اس سلسلہ میں بعض بیانات بطور مثال درج ذیل ہیں۔ایک عربی اخبار نے لکھا : - اپنی دنیوی مصروفیات میں بے حد شغول و منہمک ہونے کے باوجود لوگ تحریک احمدیت اور اس کی نتیجہ خیز کوششوں اور ساتوں براعظموں میں تبلیغ واشاعت اسلام کے لیے جدوجہد اور قربانیوں کو استعجاب و پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔گذشتہ جنگ عالمگیر کے چند