سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 165 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 165

140 ستمبر نشاء کو نظر بند کیا اور حال میں میری رہائی ہوئی۔ان دنوں مستقر۔۔۔۔۔۔۔تھا۔جیل لے جانے والے عہدہ داروں سے میں نے درخواست کی کہ مجھے اسٹیشن پر گرفتار کیا گیا تھا جبکہ میں ایک پیشی کر کے۔۔۔سے واپس ہو رہا تھا ، مجھے گھر سے جاکر قرآن کریم ساتھ لینے کی اجازت دیں۔پولیس کے عہدیدار بڑے شریف مزاج تھے۔اپنی حراست میں مجھے گھرے گئے۔میرے ایک دوست تھے جنہوں نے مجھے حضور خلیفہ صاحب جماعت احمدیہ کی لکھی ہوئی تفسیر کبیر کی جلد دی تھی۔مجھے پڑھنے کی فرصت نہ ملتی تھی۔ایک دن دوپہر کے وقت جب میں کھانے کے لیے آفس سے گھر آیا تو بیوی نے دستر خوان چننے میں کچھ دیر کی۔تفسیر کبیر کی جلد میز پر بازو میں تھی۔میں نے اُٹھالی اور چند اوراق الٹ کر دیکھنے شروع کئے۔یہ وَ الْعَدِیتِ ضَبعًا کی تفسیر کے صفحات تھے۔میں حیران ہو گیا کہ قرآن مجید میں ایسے مضامین بھی ہیں۔پھر میں نے قادیان خط لکھا اور تفسیر کبیر کی جملہ جلدیں منگوائیں ، لیکن پڑھنے کا مجھے وقت نہ ملتا تھا۔جیل کو روانگی کے وقت میں نے یہ جلدیں ساتھ رکھ لیں اور نو ماہ کے عرصہ میں جب کہ میں جیل میں تھا متعدد بار صرف یہی تفسیر پڑھتا رہا۔جیل ہی میں میں نے بیعت کرلی اور جماعت احمدیہ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔آپ بھی دُعا فرمائیں"۔الفضل ه ر مئی ۹۶۲ 1945 سید جعفر حسین صاحب ایڈووکیٹ نے اس مختصر مکتوب کے بعد ایک مفصل مضمون بھی اخبار " صدق جدید کو بھجوایا جس میں انہوں نے تفسیر کبیر کے مبارک اثرات اور قبول حق کے حالات پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی۔یہ مضمون " صدق جدید" کے دو نمبروں میں قسط وار (۸-۱۵ جون له شائع ہوا۔اس اہم مضمون کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے :- حصول دار السلام کی جدوجہد میں مجھے جب جیل پہنچایا گیا تو تیسرے دن مجھے وجوہات نظر بندی تحریری شکل میں میتا کئے گئے جس میں میری گذشتہ تین چار برسوں کی تقریروں کے اقتباسات تھے اور الزام یہ تھا کہ میں ہندوستان کی حکومت کا تختہ الٹ کہ اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتا ہوں۔میں حیران تھا کہ مجھ جیسا چھوٹا آدمی اور یہ پہاڑ جیسا الزام لیکن مجھے آہستہ آہستہ محسوس ہوا کہ میری تقریروں سے کچھ ایسا ہی مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے۔میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں بھٹکا ہوا مسافر تھا جس کی منزل