سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 164
140 بے اختیار یہ خط لکھنے پر مجبور ہو گیا۔آپ نے ھؤلاء بناتی کی تفسیر کرتے ہوئے عام مفسرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔خدا آپ کو تا دیر سلامت رکھے " الفضل ارنومبر) بر صغیر ہند و پاک کی ایک محبوب شخصیت قائد اعظم کے رفیق کار پر جوش خطیب نواب بہادر یار جنگ تغیر کبیر ے اتنے متاثر تھے کہ جنب سیٹھ محمد اعظم حیدر آبادی کے بیان کے مطابق اسے ہمیشہ زیر مطالعہ رکھتے اور بڑی محبت و عقیدت کے ساتھ ایک مخصوص بلند جگہ پر اپنے قرآن مجید کیسا تھ رکھتے تھے اور اپنی مجالس میں اکثر اس امر کا ذکر بھی کرتے تھے۔اسی طرح جناب اختر اورینوی صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے بیان کے مطابق پروفیسر عبدالمنان بیدل صدر شعبه فارسی پٹنہ یونیورسٹی نے تفسیر کبیر خود بڑھنے کے علاوہ بہت سے مشہور دانش وروں اور شیوخ کو مطالعہ کے لیے دیں اور ان سے تبادلہ خیالات اور گفتگو کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : " مرز امحمود کی تفسیر کے پایہ کی کوئی ایک تفسیر بھی کسی زبان میں نہیں ملتی۔آپ جدید تفسیریں بھی مصر و شام سے منگوا لیجئے اور چند ماہ بعد مجھ سے باتیں کیجئے۔عربی وفارسی کے علما۔مبہوت رہ گئے " (مجله الجامعه ربوه شماره نمیره صفحه ۶۳ تا ۶۵) سید جعفر حسین صاحب ایڈووکیٹ جو حیدر آباد دکن کی اتحاد المسلمین نامی تنظیم کے لیڈروں میں سے تھے بعض سیاسی وجوہ کی بناء پر قید کر دیئے گئے۔سکندر آباد جیل کی تاریکی و تنہائی انکی خوش قسمتی سے تفسیر کبیر کے مطالعہ کے نتیجہ میں روشنی وہدایت کا ذریعہ بن گئی۔اپنی نو ماہ کی قید و بند کے بعد جب آپ کو رہائی ملی تو انہوں نے مولانا عبد الماجد دریا بادی کو مندرجہ ذیل دلچسپ خط لکھا جو صدق جدید میں ایک صدق خواں کا قبول احمدیت" کے عنوان سے مدیر صدق کے تعارفی نوٹ کے ساتھ شائع ہوا۔دکن کے ایک بی۔اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ کا جو سالہا سان، انجمن اتحاد المسلمین کے بڑے پر جوش رکن رہے اور اسی سلسلہ میں جیل بھی گئے اور صدق سے بھی مخلصانہ تعلق برسوں قائم رکھا ، تازہ مکتوب صرف ان کے نام اور سابق مستقر کے حذف کے بعد :- حیدر آباد دکن ۲۸ مارچ ۱۹۶۷ حضرت قبلہ - السلام علیکم ! دار السلام مجلس اتحاد المسلمین کے سلسلے میں گورنمنٹ آندھرا پردیش نے مجھے ۲۶