سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 161 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 161

141 حضور فرماتے ہیں :۔۱۰,۰۰۰ پارہ عم کی تفسیر کی طباعت کے لیے میں نے دس ہزار روپیہ دیا ہے۔اور یہ پارہ اس رقم سے شائع کیا جائے گا۔یہ رقم اور اس کا منافع بطور صدقہ جاریہ میری مرحومہ بیوی مريم بكم أم طاہر غَفَرَ اللهُ لَهَا وَاَحْسَنَ مَثْوَاهَا کی رُوح کو ثواب پہنچانے کے لیے وقف رہے گا۔اور اس کی آمد سے قرآن کریم احادیث اور سلسلہ احمدیہ کی ایسی کتب جو تائید اسلام کے لیے لکھی جائیں شائع کی جاتی رہیں گی اور اس کا انتظام تحریک جدید کے ماتحت رہے گا۔اللہ تعالیٰ اس صدقہ جاریہ کو مرحومہ کی درجات کی بلندی اور قرب الہی کا دیبا چه تفسیر کبیر جلد شتم ) موجب بنائے اور اس جگہ یہ بیان کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ باوجود برسوں کی مجاہدانہ محنت و کاوش کے با وجود اشاعت کی مد میں گراں قدر مالی اعانت کے آپ نے خود اپنے مطالعہ کے لیے بھی تفسیر کبیر بلا معاوضہ حاصل نہ کی حضور فرماتے ہیں :۔"- ہر احمدی باپ کا فرض تھا کہ اپنی اولاد کے لیے تفسیر کبیر خرید تا۔میں نے خود اپنی ہر لڑکی اور ہر لڑکے سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے تفسیر خریدی ہے یا نہیں اور جب تک ان سب نے نہیں خریدی مجھے اطمینان نہیں ہوا۔میں نے تو خود سب سے پہلے اسے خریدا اور حق تصنیف کے طور پر اس کا ایک نسخہ لینا پسند نہیں کی کیونکہ میں اس پر اپنا کوئی حق نہ سمجھتا تھا۔میں نے سوچا کہ مجھے علم خدا تعالیٰ نے دیا ہے، وقت بھی اسی نے دیا ہے اور اسی کی توفیق سے میں یہ کام کرنے کے قابل ہوا ہوں۔پھر میرا اس پر کیا حق ہے اور میرے لیے یہی مناسب ہے کہ خود بھی اسے اسی طرح خریدوں جیس طرح دوسرے لوگ خریدتے ہیں۔۔۔۔۔یہ تفسیر ایک بہترین تحفہ ہے جو دوست دوست کو دے سکتا ہے۔ایک بہترین تحفہ ہے جو خاوند بیوی کو اور بیوی خاوند کو دے سکتی ہے۔باپ بیٹے کو دے سکتا ہے۔بھائی بہن کو دے سکتا ہے یہ بہترین جیز ہے جو لڑکیوں کو دیا جا سکتا ہے" الفضل ۱۶ جنوری تغیر کبیر کے متعلق لبعض اہل علم حضرات کے تبصرے : ۱۹۳۷ تغیر کبیر کے مطالعہ کے بعد مشہور نقاد و ادیب اختر اورینوی (پٹنہ۔انڈیا ) لکھتے ہیں :۔