سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 160
دنوں میں تفسیر کبیر لکھی نہ آرام کا خیال رہتا تھا نہ سونے کا نہ کھانے کا بس ایک دھن تھی کہ کام ختم ہو جائے۔رات کو عشا کی نماز کے بعد لکھنے بیٹھتے ہیں تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی اذان ہو گئی۔" الفضل ۲۵ مارچ ۹۶۶لته ) تفسیر کبیر کی طباعت و اشاعت کا انتظام مولوی عبدالرحمان انور صاحب کے ذمہ تھا ان کے بیان کے مطابق۔" جب تفسیر کبیر کی سورۃ یونس کی تفسیر والی پہلی جلد رات کو چار بجے کے قریب مکمل ہوئی تو حضور کی ہدایت کے بموجب کہ جونی کتاب کی پہلی جلد تیار ہو حضور کی خدمت میں فوراً پیش کی جاوے۔جب پیش کرنے کے لیے دستک دی تو حضور فوراً تشریف لے آئے اور تیار شدہ جلد کو ملاحظہ فرما کر بہت خوش ہوئے " ( الفرقان فضل عمر نمبر ۱۹۶۵ ة ) 1946 حضرت مصلح موعود کو اس کام کے جلد مکمل ہونے کا جس قدر خیال تھا اس کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کر تقسیم ملک کے قیامت خیز انقلاب میں جب ماؤں کے لیے بچوں کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔حضور اپنی کسی جائیداد اور اولاد سے بھی پہلے تفسیر کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔حضور نے انخلام آبادی کی ہدایات میں فرمایا : جو کنوانے آتے گا اس کے ساتھ تفسیر کے تین بکس دفتر سے ضرور بھجوا دیں۔اور مولوی محمد یعقوب کو۔تاکہ دو چار دن میں تفسیر کی آخری جلد مکمل کر دوں تا اس طرف سے دلجمیعی ہو جائے۔باقی کام ہوتا رہے گا کون شخص ہے میں نے سارے دنیا کے کام کئے ( تاریخ احمدیت شد جلد نهم ) ہوں " ۱۴۵ اس ہدایت کی تعمیل ہوتی اور تفسیر کبیر کا کام پاکستان میں آکر بھی جاری رہا۔حضرت مصلح موعود نے جماعتی کاموں کی سرانجام دہی میں جس جذبہ خدمت و وقت اور قربانی کا مظاہر فرمایا اور جس انہماک و توجہ سے تفسیر کبیر کی تالیف و ترتیب کا عظیم الشان کام کیا اس کی ایک جھلک پچھلے صفحات میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس تفسیر کی اشاعت کے سلسلہ میں آپ نے اپنی علمی و دماغی صلاحیتوں کو پوری طرح فی سبیل اللہ صرف کرنے کے ساتھ ساتھ گراں قدر مالی امداد بھی فرمائی۔