سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 152 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 152

۱۵۲ تاہم حضور کی اس موضوع پر ایک مختصر عبارت جو حضور نے ایک سائل کے جواب میں ارتجالا تحریر فرمائی تھی ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔اصول تفسیر قرآن تو بہت ہیں مگر چند بیان کرتا ہوں۔دل کو پاک کرنا اور اپنے خیالات کو دل سے نکال کر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہوئے قرآن کریم کا مطالعہ کرنا۔قرآن کریم میں آیا ہے۔لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔-- عربی لغت - ترجمہ اور مضمون کے لیے سب سے مقدم ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے قرآنا عربياً اُتارا ہے۔پس بجائے اپنے پاس سے معنی نکالنے کے عربی لغت کو دیکھنا چاہیئے۔-- دُعا۔قرآن کریم شروع میں فرماتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔ایسے معنی نہ کئے جائیں جو دوسری آیات کے خلاف ہوں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَا فَا كَثِيرًا - -A -A سنت اللہ کے خلاف معنی نہ کرے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لَن تَجِدَ لِسُنَةِ اللَّهِ تَبْدِيلاً ہر آیت پہلی اور پچھلی آیتوں سے مل کر معنی دیتی ہے۔پس وہ معنی کرے جو قرآن کریم میں ترتیب ثابت کرتے ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قرآن بیان لِلنَّاسِ ہے۔یعنی خود اس کی آیات ایک دوسرے کی مفسر ہیں۔۔وہ معنی جو اخلاق کے خلاف ہوں یا انسان کے لیے تباہی کا موجب ہوں درست نہ ہوں گے۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے قرآن کریم ذکر کر ہے یعنی تمہاری عزت اور شرف کی زیادتی کے لیے نازل ہوا ہے۔معرفت کی زیادتی کے لیے فرماتا ہے قرآن کریم میں متشابہات بھی ہیں یعنی پہلی کتب سے ملتی ہوئی تعلیم اور محکمات بھی ہیں یعنی وہ تعلیمات جو پہلی کتب سے زائد ہیں یا ان کی تعلیم کو ترقی دیگر کامل کر کے بتایا ہے۔فرمایا من ام الکتاب یعنی باعث نزول قرآن وہی ہیں۔پس ان کی جستجو ضروری ہے کہ وہی اسلام کی فوقیت دوسرے ادیان پر ثابت کرتی ہیں " الفضل ۲۶ اگست ۱۹۳۷ ) دیا چه تفسیر القرآن : سوا تین سو صفحات سے زائد کی یہ نہایت مفید کتاب ضرورت نذہب کے بنیادی سوال کا دلچسپ اور