سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 148 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 148

بجے تک کا وقت مقرر تھا گر جیسے جیسے یہ پروگرام آگے بڑھتا گیا اور اس کی افادیت نمایاں ہوتی گئی حضور اس کے لیے اور زیادہ وقت دینے لگے اور بعض اوقات تو یوں لگتا تھا کہ حضور نے اپنا سارا وقت اس انتہائی مفید کام کے لیے مختص کر دیا ہے۔اس درس کے اختتام پر جو الوداعی تقریب ہوئی اس کے متعلق الفضل کے نامہ نگار نے لکھا: حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ نے درس میں شامل ہونے والے اصحا سے اپنی محبت اور شفقت کا اظہار اس طرح بھی فرمایا کہ سب کو 4 ستمبر تہ دار سیح موعود علیہ اسلام میں دعوت طعام دی جس میں بہت سے مقامی احباب کو بھی شمولیت کا فخر بخشا۔اس دعوت کی قدر وقیمت وہی اصحاب جانتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ننگر خانہ کے سوکھے ٹکڑے بطور تبرک لے جاتے ہیں اور اپنے عزیزوں میں بطور تحفہ تقسیم کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی دعوت دینے والے ہوں۔حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دوسرے نونہال دعوت کھلانے والوں میں ہوں اور دار مسیح موعود میں بیٹھ کر دعوت کھانے کا موقعہ نصیب ہو اس سے بڑھکر ایک احمدی کے لیے کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔چونکہ حضرت خلیفة المسیح الثانی سورۃ کہف تک درس ختم کرنا چاہتے تھے جس کا د ستمبر سے قبل ختم ہونا محال تھا لیکن کئی اصحاب ستمبر کو واپس جانے کے لیے مجبور تھے اس لیے ے ستمبر کو گیارہ بجے تک درس دینے کے بعد حضور نے جانے والے اصحاب کو اجازت دیدی اور اس موقعہ پر ایک مختصر سی تقریر کے بعد جس میں تبلیغ اسلام کرنے۔قرآن کریم کے حقائق و معارف پھیلانے ، تحریری طور پر خدمت دین کرنے کے بعد اگلے سال پھر درس دینے کا اعلان فرمایا اور سب حاضرین کے ساتھ مل کر نہایت خشوع و خضوع سے طویل دعا فرمائی۔دوران دُعا میں احباب کے گریہ و بکا سے مسجد میں گونج پیدا ہوگئی۔خود حضرت خلیفہ مسیح کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے " (الفضل الر ستمبر 9ة ) حضور نے درس میں شامل ہونے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : ------ اپنے اپنے مقام پر جاکر جماعتوں کو سنبھالنے اور چست بنانے کی کوشش کریں اور ان میں زندگی کی روح پیدا کریں اور انہیں بتائیں کہ ان کا معیار آگے والے کی طرف دیکھنا ہوتا ہے۔دنیا دار قربانی کرتے وقت پیچھے کی طرف دیکھتا ہے اور شکریہ کے