سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 147 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 147

۱۴۷ نے میرے ذریعہ سے ہی ان مضامین کے متعلق قرآن کے معارف کھولے جن کو آج دوست دشمن سب نقل کر رہے ہیں۔مجھے کوئی لاکھ گالیاں دے۔مجھے لاکھ برا کہے جو شخص اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے لگے گا اسے میرا خوشہ چین ہونا پڑے گا۔اور وہ میر احسان سے کبھی باہر نہیں جاسکے گا ---- ان کی اولادیں جب بھی خدمت دین کا ارادہ کریں گی وہ اس بات پر مجبور ہونگی کہ وہ میری کتابوں کو پڑھیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں بلکہ میں بغیر فخر کے کہہ سکتا ہوں کہ اس بارہ میں سب خلفاء سے زیادہ مواد میرے ذریعہ سے جمع ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔اس مجھے یہ لوگ خواہ کچھ کہیں خواہ کتنی بھی گالیاں دیں ان کے دامن میں اگر قرآن کے علوم پڑیں گے تو میرے ذریعہ ہیں۔اور دنیا ان کو یہ کہنے پر مجبور ہوگی کہ اسے نادانو ! تمہاری جھولی میں تو جو کچھ بھرا ہوا ہے وہ تم نے اسی سے لیا ہے پھر اس کی مخالفت تم کس منہ سے کر رہے ہو یا خلافت را شده صفحه ۲۵۴ تا ۲۵۶ ) قرآن مجید کا خاص درس : جماعت احمدیہ کی بنیاد يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ کے مطابق احیاء دین و اقامت شریعت کے لیے رکھی گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مشہور عالم تصنیف براہین احمدیہ کے ذریعہ اس مہتم بالشان کام کا آغاز فرمایا۔اس کے بعد آپ کے تمام ملفوظات۔مکتوبات - تقاریر تحریرات اور تصانیف میں قرآنی نکات ورموز حسین پیرا یہ میں بیان ہوتے۔حضرت مولنا نور الدین خلیفہ امسیح الاول " کو قرآن مجید سے عشق تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت صافی سے اور نکھار آگیا اور آپ دن رات کے مختلف اوقات میں کئی کئی درس دیا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعودہؓ کے زمانہ میں بھی یہ مبارک طریق جاری رہا۔عمومی طور پر تو حضور مردوں اور عورتوں میں الگ الگ درس دیا ہی کرتے تھے مگر شاستہ میں آپ نے ایک خاص درس کا اہتمام فرمایا اس کے لیے اخبار الفضل میں بار بار اعلان کیا گیا۔درس میں شمولیت اختیار کرنے والوں کی قبل از وقت فہرستیں تیار کی گئیں۔روزانہ درس سے قبل گذشتہ دن کے درس کے متعلق حضور خود جائزہ و امتحان لیتے اس خصوصی درس کے لیے جو ، اگست شاہ کو مسجد اقصیٰ قادیان میں شروع ہوا اور جس میں قادیان کے مخلصین کے علاوہ بیرونی جماعتوں کے پڑھے لکھے معزز افراد بھی اپنے دفتروں اور دوسرے کاموں سے رخصت حاصل کر کے کثیر تعداد میں شامل ہوتے۔شروع میں تو ا ۲ بجے سے ۵ بجے تک اور 4 سے لے