سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 126 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 126

IFY رائے کے مطابق کچھ مزید کام کر سکتا ہوں اگر دوستوں نے تعاون نہ کیا تو خطرہ موجود ہے۔ر الفضل ۲۴ مئی ۱۹۵۵ تفسیر قرآن پر خطبات : زیورچ میں حضور نے ۲۰ مئی شہدا کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا :- چند سال ہوئے کہ میں ایک دفعہ برف دیکھنے کے لیے ڈلہوزی گیا وہاں پر میں دوسپر کے وقت تھوڑی دیر کے لیے بیٹھا تو مجھے الہام ہوا کہ دنیا میں امن کے قیام اور کمیونزم کے مقابلہ کے لیے سارے گر سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں۔مجھے اس کی تفسیر سمجھائی گئی۔جو عرفانی طور پر تھی نہ کہ تفصیلی طور پر - عرفانی کے معنے یہ ہیں کہ دل میں ملکہ پیدا کر دیا جاتا ہے لیکن وہ تفصیل الفاظ میں نہیں نازل ہوتی۔کچھ دنوں کے بعد دوستوں سے اس کا ذکر آیا اور وہ پوچھتے رہے کہ اس کی کیا تفسیر ہے میں نے کہا کہ میں کبھی اس کے متعلق مفصل رسالہ لکھوں گا۔خصوصاً جب مخالف دعوای کرے کہ اس کے پاس ان دونوں کا جواب موجود ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی مشیت تھی کہ مجھے اب تک یہ رسالہ لکھنے کا موقعہ نہ ملا۔اب جبکہ میں بیمار ہو گیا ہوں اور بظاہر اس کا موقعہ ملنا مشکل ہے میں نے مناسب سمجھا کہ خواہ اشارہ ہی چند الفاظ میں ہو ئیں اس کا مضمون بیان کرتا ہوں تا وہ علماء کے کام آئے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔" حضور نے چار خطبوں میں اس وہی علم کی روشنی میں سورۃ فاتحہ کی ایمان افروز تفسیر بیان فرمائی۔ان خطبوں سے جماعت میں نئی امنگ اور حوصلہ پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور کی بیماری کے اثرات ختم ہو رہے ہیں اور حضور نے پہلے کی طرح علمی کام شروع کر دیتے ہیں۔مبلغین کی کانفرنس : ان خطبات اور حضور کی دوسری تبلیغی مصروفیات سے یہ بھی پتہ چلا کہ علاج وصحت سے کہیں بڑھ کر حضور کو خدمت قرآن اور اشاعت اسلام میں دلچسپی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضور نے علاج کے دوران ہی زیورچ سے دنیا بھر کے مبلغین کو ایجنڈا سوالنام ارسال فرمایا تھا تا وہ جماعتوں اور دوسرے مبلغوں سے مشورہ کر کے مبلغین کی کانفرنس میں شریک ہوں یہ کانفرنس ۱۲۲ ۲۴۱۲۳ جولائی کو لندن میں ہوئی۔حضور نے کانفرنس میں شرکت فرمائی۔اہم اور