سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 108 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 108

مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب با جوه - مکرم کیپٹن محمدحسین چیمہ صاحب - قائم مقام امیر اور ناظرا علیٰ کا تقرر۔حضرت مصلح موعود نے اس اہم اور لیے سفر پر جاتے ہوئے جماعتی انتظام کے متعلق مندرجہ ذیل ہدایات جاری فرمائیں۔"میں چونکہ بیماری کے علاج کے لیے یورپ جارہا ہوں۔اس لیے میری غیر حاضری میں قائم مقام امیر مرزا بشیر احمد صاحب اور ناظر اعلی اختر صاحب (میاں غلام محمد اختر) ہونگے۔تحریک اور صدر انجمن کے تعاون اور صحیح کام کے لیے میں نے کچھ ہدایات دے دی ہیں۔میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ میں نے جو نئے ناظر اعلیٰ اور مقامی امیر مقرر کہتے ہیں ان کی بھی تمام افسر اطاعت کرینگے۔اور ان سے تعاون کریں گے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ تا احکام ثانی صدر انجین احمدیہ سے تعلق رکھنے والے تمام کاموں میں صدر انجین کا حکم آخری ہوگا۔اور تحریک جدید سے متعلقہ تمام کاموں میں تحریک جدید کا فیصلہ آخری سمجھا جائے گا میں اُمید کرتا ہوں کہ ہر ایک افسر اور ہر ایک انجمن بغیر جنبہ داری اور بغیر رعایت کے اور بغیر دوستی کے خیال کے اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کریگی۔قادیان سے تعلق رکھنے والے سب امور میں صدر انجمن قادیان کا حکم آخرتی ہوگا۔مگر اس کی نگرانی کا حتی میاں بشیر احمد صاحب کو ہو گا مگر وہ کسی شخص کو وہاں سے آنے کی اجازت نہیں دے سکیں گے۔یہ فیصلہ ہر حال میری زندگی میں مجھ سے تعلق رکھے گا " مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی ۱۸/۳/۵۵ ) الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۵۵) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے بعض نہایت ضروری اور اہم پیغامات : ۱- برادران ! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته جیسا کہ آپ کو معلوم ہے۔گذشتہ ہفتہ ۲۶ فروری کو مغرب کے قریب مجھ پر بائیں طرف فالج کا حملہ ہوا۔اور تھوڑے سے وقت کے لیے میں ہاتھ پاؤں چلانے سے معذور ہو گیا۔پہلے ڈاکٹروں کا خیال ہوا کہ شاید کہ CEREBERAL THROMEOS کا حملہ ہوا ہے