سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 94

۹۴ گفتگو کرتے ہوئے دکھایا کرتا ہے لیکن معا اس گفتگو کا رخ بدلتا ہے اور حضرت صاحب اچانک یہ نیا نکتہ گفتگو میں پیش فرماتے ہیں کہ جب تاریخ فی ذاتہ کامل طور پر قابل اعتماد نہیں اور اس کے چہرے پر جگہ جگہ اشتباہ کے پردے لٹکے ہوئے ہیں اور بعض حالات کی راہ میں تو جھوٹ کی تاریکیاں بھی حائل ہیں۔تو کیا کسی تاریخ کی صداقت پر رکھنے کا بہترین طریق یہ نہ ہو گا کہ اس زمانہ میں بھی اس کی صداقت کا کوئی شاہد ملے۔پروفیسر صاحب موصوف نے اس کے جواب میں پُر زور تائید فرمائی کہ ہاں اس سے بہتر ذریعہ کسی تاریخ کی صداقت کا اور نہیں ہو سکتا۔تب آپ نے مضمون کو خالصتہ مذہبی رنگ دیتے ہوئے اچانک بحث کا نقشہ بدل دیا اور پروفیسر صاحب کو ایک ایسی ؟ گفت گو پر مجبور کر دیا جس کا ابتداء میں وہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے۔یہاں پہنچے کہ پروفیسر صاحب نہ صرف اور زیادہ محتاط نظر آتے ہیں بلکہ نہایت فراست اور ذہانت کے ساتھ بظاہر بڑے کاری ہتھیاروں کے ساتھ اس نوجوان پر جوابی حملہ کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں اور غالباً یہی حضرت صاحب کا منشاء تھا۔کہ کسی طرح کھل کر بے تکلفی کے ساتھ وہ اسلام اور احمدیت پر اپنے اعتراضات ظاہر کریں ورنہ مغربی تہذیب کے پابندان پروفیسر صاحب کے چند رسمی با اخلاق کلمات سے تو کچھ حاصل نہ ہوتا۔آپ نے فرمایا کیوں نہ تمام مذاہب کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے کہ جو جو معجزات اور نشانات اُن کی قدیم تاریخ ہمیں باور کرنے پر مجبور کر تی ہے ان کے متعلق اس زمانہ میں شاہد طلب کئے جائیں یعنی اگر حضرت کوشن بیچتے تھے تو اس زمانہ میں بھی اُن کے ماننے والے ویسے ہی معجزات پیش کر کے اپنی تاریخ کو سچا کر کے دکھائیں۔اگر مسیحیت کی تاریخ سچی ہے تو حضرت سیشم کی طرف منسوب کر وہ معجزات کا اس زمانہ میں سبھی کچھ مشاہدہ کروا دیا جائے۔وعلی ہذا القیاس۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔جب کسی مذہب کی تاریخ پر زمانہ حال کے شاہد گواہی دینے کو اُٹھ کھڑے ہوں گے تو جس طرح ایک تاریخی شہر کے کھنڈرات کو دیکھ کر کسی کے لئے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر بیچتے مذہب کی تاریخ کی صداقت روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گی۔آپ نے انہیں بتایا کہ احمدیت اس کسوٹی پر اسلام کی نمائندگی کرنے کے لئے تیار ہے اور اسلامی تاریخ کو سچا ثابت کر دکھانے کے لئے ہر چیلنج کو قبول کرتی ہے