سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 95

پروفیسر صاحب کے لئے گفتگو کا یہ نیا موڑ بہت اچنبھے کا موجب بنا لیکن وہ دانشور جو اسلامی تاریخ اور اسلامی لٹریچر پر گہری نظر رکھتا تھا اس آسانی سے مات کھانے کے لئے تیار نہ تھا چنانچہ انہوں نے ایک چھوٹا سا معصومانہ سوال ایسا کیا جو حضرت صاحب کو بہت الجھن میں ڈال سکتا تھا۔آپ نے مہذبانہ رنگ میں استفسار کیا۔کیا کتاب دلائل النبوت میں جو معجزے درج ہیں اُن کو آپ مانتے ہیں؟" کتاب دلائل النبوت ایک ایسی کتاب ہے جس میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے واجب التسلیم معجزات کے ساتھ ایسے بہت سے قصے بھی درج کر دیئے گئے ہیں جو افسانوی رنگ رکھتے ہیں۔چنانچہ اس سوال کے جواب میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ اگر اثبات میں سر بلاتے تو ایسے خیالی معجزوں کے ثبوت پیش کرنے کے بھی وہ پابند ہو جاتے جن کی قرآن و سنت تصدیق نہیں کرتے۔اگر انکار فرماتے تو گویا دوسرے لفظوں میں متحجرات کے وجود ہی کا سرے سے انکار ہو جاتا۔چنانچہ آپ نے اس شرط کے ساتھ مذکورہ کتاب کے معجزات کو تسلیم کرنے کا دعوی کیا کہ قرآن اور سنت ان کی تائید کرتے ہوں۔ہم پروفیسر صاحب کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ فضول کچ بیٹیوں میں پینے کی بجا انہوں نے فی الفور اس کسوٹی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے ترکش سے وہ سب سے کاری تیر نکالا۔جوست شرق اسلام کے خلاف استعمال کیا کرتے ہیں یعنی معجزہ شق القمر جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے کو پیش کر کے یہ توقع ظاہر کی کہ آج بھی ایسا ہی معجزہ رونما ہو تو ہم تسلیم کر لیں گے کہ واقعی زمانہ حال نے زمانہ ماضی پر شہادت دے دی۔اس کا جواب حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کے اپنے الفاظ میں من وعن پیش کیا جاتا ہے :۔جس رنگ میں قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اسی طرح ہو سکتا ہے قرآن کریم نے جو کچھ اس کے متعلق بتایا ہے وہ اس سے بالکل الگ ہے جو عام طور پر مشہور ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ شق القمر ساعت کی علامت ہے۔اب اس کے وہی معنے کئے جائیں گے جن کے رو سے ساعت کی علامت ٹھہرے۔اور وہ یہ ہیں کہ قمر عرب کی مملکت کا نشان تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تشفی رنگ میں دکھایا گیا کہ تمر دو ٹکڑے ہو گیا ہے اور یہ کشف دوسروں کو بھی