سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 90

” میں شائع ہوئی اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔یہ مد مقابل ایک عیسائی مستشرق ہے، جسے بائیبل پر بھی گہرا عبور ہے اور اسلامیات پر بھی وہ نظر رکھتا ہے۔گہری تنقیدی نظر سے وہ سحر یک احمد ثیت کا مطالعہ کر رہا ہے اور ایسے پیچیدہ اور گہرے سوالات کرتا ہے کہ جن کے جوابات دیتے وقت مد مقابل الجھن میں پڑ جائے۔اور بعض ایسے سوالات کرتا ہے جن کے متعلق وہ جانتا ہے کہ ان کے جوابات دیگر فرقوں اور مذاہب کے ماننے والوں کے سامنے حضرت خلیفہ المسیح الثانی" کی پوزیشن کو مشکل میں ڈال دیں گے۔یہ ایسا سنجیدہ اور اعلیٰ پایہ کا علمی مکالمہ و مخاطیہ ہے کہ اس کا خلاصہ پیشیں کرنا ہمارے لئے مشکل ہے اور طوالت کے خوف سے من و عن پیش کرنا بھی محال ہے۔صرف ایک سوال اور اس کا جواب پیش کرنے پر اکتفا کی جاتی ہے :۔مسٹر والٹر۔کیا سوائے احمدیوں کے سب لوگ دوزخ میں جائیں گے۔احمدی تو بہت تھوڑے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح :- آپ کے نزدیک حضرت مسیح جب آئے تھے تو اس وقت صرف تیرا آدمی نجات یافتہ نکلے تھے۔اگر ان کے وقت سوم تیرہ کے اور کوئی نجات نہیں پاسکتا تو اس وقت کئی لاکھ کے سوا اگر اور نجات نہیں پائیں گے تو کیا حرج ہے یا تاریخ احمدیت میں مسٹر والٹر اور ان کے ساتھیوں کے تاثرات کا پیچیپ ذکر ملتا ہے قادیان میں آمد حضرت خلیفہ ایسیح اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام سے ملاقات کا ایسا گہرا اثر ان زائرین کے دل پر پڑا کہ مسٹر والٹر نے بعد میں اپنی ایک کتاب (AHMADIYYIA MOVEMENT) میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے گھر سے تاثرات کا اظہار کیا جو احباب قادیان سے مل کر ان کے دل پر پڑے۔پھر مدتوں بعد ایک موقعہ پر سیلون میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر لیو کس نے سامعین کے سامنے بڑے وثوق کے ساتھ یہ اظہار خیال کیا له له بحوالہ تاریخ احمدیت جلد پنجم مد