سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 89
بعض غیر مسلم زائرین سے انفرادی ملاقاتیں قادیان ہمیشہ مرجع خاص و عام رہا ہے جہاں ہر مذہب و ملت اور ہر مکتب خیال کے لوگ کبھی تو تلاش حق میں اور کبھی اپنے مذہب اور نظریے کی برتری ثابت کرنے کے شوق میں چلے آتے۔کبھی احمدیت کے متعلق انوکھی باتیں سن کر اپنے تجسس کی پیاس بجھانے کے نئے۔بسا اوقات ایسے زائرین کی یہ خواہش ہوتی کہ وہ عام علماء سے نہیں بلکہ خود حضرت خلیفہ مسیح سے تبادلہ خیالات کریں۔اگر چہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ انتہائی مصروف زندگی گزارتے تھے۔لیکن سوائے اس کے کہ کوئی شدید مجبوری مانع ہو ایسے نہاثرین کو کچھ نہ کچھ وقت ضرور دیا کرتے۔زیر نظر دور میں سے ہم ایسی ہی چند طاقاتوں کی تفصیل پیش کرتے ہیں جو حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرفہ استدلال تبحر علمی - حلم، حوصلہ اور گھری فراست پر روشنی ڈالتی ہیں۔تین یورپین عیسائی علماء کی قادیان میں آمد اور خلیفتہ اسیح الثانی سے دلچسپ تبادلۂ خیالات اوائل 1912ء میں لاہور کے تین یورپین عیسائی علماء تحقیق اور احمدیت کے مطالعہ کی غرض سے قادیان تشریف لائے ان میں ایک مسٹر والٹرینگ تین کرسچن ایسوسی ایشن لاہور کے سیکرٹری تھے۔دوسرے مسٹر ہیوم اسی ایسوسی ایشن کے ایجو کیشن سیکرٹری اور تیسرے مسٹر لیوکس ایم سی کالج لاہور کے وائس پرنسپل تھے۔مسٹر والڑ کا ارادہ قادیان اور تحریک احمدیت پر ایک کتاب لکھنے کا تھا۔چنانچہ وہ مختلف مقامات کی زیارت کے علاوہ مختلف پرانے اور نئے احمدیوں سے گفت وشنید اور تبادلہ خیالات کرتے رہے۔حضرت خلیفہ ایج سے مذہبی امور پر آپ کی ایک طویل گفتگو ہوئی ہو الفضل ۱۵ جنوری نشاء