سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 47

کہ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ذہن کی پختگی اور وسعت کی یہ ایک روشن دلیل ہیں کوئی ضروری مسئلہ ایسا نہیں جس پر رہنمائی کی ان دنوں جماعت کو ضرورت ہو اور آپ نے اس پر روشنی نہ ڈالی ہو۔ان تقریروں کا مجموعہ برکات خلافت کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ان کے تفصیلی تعارف کی تو گنجائش نہیں ہاں بعض اقتباسات نمونہ کے طور پر ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں تاکہ اس زمانہ میں مختلف مسائل کے بارے میں آپ کا انداز فکر و نظر معلوم ہو سکے۔اہل قادیان کو نصیحت وہ لوگ جو قادیان کے رہنے والے ہیں ان کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ پانچ باتیں جن لوگوں میں پائی جاتی ہوں وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتے اور ان پانچوں میں سے ایک نعمان کی قدر کرنا ہے۔قادیان کے رہنے والے کہتے ہیں کہ ہماری نسبت حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے الہامات ہیں اور آپ نے ہماری نسبت بہت عمدہ الفاظ فرما ہیں میں ان باتوں کو مانتا ہوں۔مگر تم اپنے اعمال سے بھی ثابت کر دکھاؤ کہ واقعی تم ان باتوں کے مستحق ہو۔پس جو مہمان تمہارے پاس آتے ہیں ان کی خاطر اور تواضع میں لگ جاؤ اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ میرے مہمان نہیں ہیں۔اس لئے مجھے خدمت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے جہان ہیں اور تم اللہ کے بندے ہو تو کیا یہ بندے کا فرض نہیں ہے کہ وہ اپنے آقا کے مہمان کی خبر گیری کرے۔۔۔۔۔۔۔اگر تمھیں کسی سے تکلیف بھی پہنچ جائے تو اس کو برداشت کرو۔اور کسی کی ہتک کرنے کا خیال بھی دل میں نہ فاؤ۔جو مہمان کی ہتک کرتا ہے وہ اپنی ہی بہتک کرتا ہے کیونکہ مہمان اس کی عزت ہوتا ہے نہیں اس سے زیادہ احمق کون ہے جو اپنی عزت آپ بر باد کر ہے " د برکات خلافت سنگ