سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 42

ستحفة الملوك خلافت کے ابتدائی مہینوں مئی جون 1917 ء میں آپ نے ایک مختصر کتاب بعنوان تحفة الملوك تصنیف فرمائی ہو شاہ دکن کو مخاطب کر کے لکھی گئی تھی اور اس میں بڑے و کش انداز میں انہیں احمدیت قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔اس کتاب کی تصنیف کا باعث یہ ہے کہ آپ کو ایک دلچسپ طویل رویا میں ایک تمہیں اعظم کو تبلیغ کا طریق سکھایا گیا۔اسی رویا کی بناء پر سکھائے ہوئے طریق کے مطابق آپ نے تاجدار دین کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کتاب رقم فرمائی۔کتاب کا مسودہ مکمل ہونے پر طباعت سے قبل ہی حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے احباب قادیان کے ایک جلسہ میں بعد نماز عصر اسے خود پڑھ کر سُنایا۔اس وقت سامعین کی جو کیفیت تھی اس کا کسی قدر اندازہ نمائندہ الفضل کے مندرجہ ذیل الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے :- با وجود گرمی کی تپش اور ہوا کی بندش کے سامعین ثبت بنے بیٹھے تھے اور ایک عجیب عالم محویت طاری تھا۔ہمارے خواجہ کرم داد صاحب (جموں) تو ایسے وجد میں آئے کہ چالیس منٹ تک سجدے میں پڑے رہے۔حضور نے ایک گھنٹہ میں مضمون کا بہت سا حصہ سُنا دیا۔پھر نماز مغرب ادا کی گئی بعد انہاں باقی حصہ سنانے میں ہنستیس منٹ خرچ ہوئے۔اگر ٹھہر ٹھہر کوسنایا جائے تو اڑھائی گھنٹوں میں ختم نبو" والفضل قادیان ۲۰ر جون ) بعد ازاں جب یہ کتاب شائع ہوئی تو اعلحضرت نظام دکن کے علاوہ دیگر ارباب حکومت کو بھی بھیجوائی گئی۔اس کے مطالعہ کے نتیجہ میں بکثرت احباب احمدیت کی طرف مائل ہوئے۔بالخصوص دکن کی ایک بہت بڑی شخصیت کو اس کے ذریعہ قبول حق کی توفیق ملی۔ہماری مراد حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب سے ہے جو اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور دکن کے ایک بڑے ہی متمول اور صاحب حیثیت گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔کہنے کو تو آپ ایک تھے لیکن فی الحقیقت پوری جماعت کی شان آپ میں جھلکتی تھی۔سیٹھ صاحب کا