سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 41
الم اور پوری شان کے ساتھ سجایا یہاں تک کہ اس کی دل ہلا دینے والی پر شوکت آواز سے احمدیت کے ایوان گونجنے لگے۔اس آواز میں ایک اثر تھا۔اس آواز میں جذب و مستی تھی اس آواز میں ایک ایسا درد تھا جو دلوں کو بتیاب کرتا تھا۔ایک ایسی کشش تھی جو دینِ محمدؐ کی طرف والہانہ کھینچتی تھی۔اور دنیا و مافیہا سے بے نیاز کر دیتی تھی۔ہائید با نیر کی کہانی تو آخر ایک کہانی تھی اور نفیسی کی وہ آواز محض ایک افسانہ ہی تو تھی جسے سنکر بچے ماؤں سے الگ ہو کر فیسی بجانے والے کی طرف دوڑ پڑتے تھے۔لیکن تاریخ احمدیت گواہ ہے کہ اس منبسی بجانے والے نے حقیقتا ایک ایسی پر اسرار آسمانی شر میں نفسی بجائی کہ ہزاروں ماؤں کے لال کشاں کشاں گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور اپنی جانوں کے نذرانے لئے ہوئے دین محمد کی قربان گاہوں کی طرف بڑھنے لگے۔قادیان ایک عظیم درسگاه تبلیغ اسلام کا کام اچھے ٹھوس قابل اور مخلص علماء کا تقاضا کرتا تھا۔اس غرض کے لئے قادیان آپ کی سرپرستی میں بزرگ اور باخدا گرے اور ٹھوس علماء پیدا کرنے کا ایک کارخانہ بن گیا۔قرآن کریم کا درس آپ خود بھی دیتے تھے لیکن باقاعدہ تبلیغی کلا میں جاری فرما کہ آپ نے قرآن کریم کے درس کے علاوہ مشکوۃ وقدوری کے درس بھی جاری فرمائے جو مسجد مبارک اور مسجد اقصے ہمیں روزانہ ہوتے تھے۔اور سلسلہ کے جید علماء مثلاً حضرت قاضی سید امیر حسین صاحب۔حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت میر محمد اسحق صاحب وغیرہ تدریس میں حصہ لیتے تھے۔ان کوششوں کا یہ نتیجہ کلا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکریم سے انجمن ترقی اسلام جلد جلد ترقی کرنے لگی۔اور چند ماہ کے قلیل عرصہ میں ہی مبلغین اسلام کی تعداد صدر انجمن احمدیہ کے زیر اہتمام کام کرنے والے چار مبلغین سے بڑھ کر پندرہ تک جاپہنچی جو مندرجہ ذیل علاقوں میں تبلیغ اسلام کا فریضہ سر انجام دیتے رہے :- پشاور - انبالہ - گوجرانوالہ - گجرات - مالوہ - آگرہ - بهار بنگال - کلکتہ کٹک۔گورداسپور - لنڈن - مصر- شام - الفضل قادیان ارجون شاه)