سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 360
py ۶۱۹۶۲/۵ ) نسلوں کی بھی اپنے فضل سے راہ نمائی کرے اور اس کام کو اپنی مرضی کے مطاق ہمیشہ کے لئے جاری یہ کھے یہاں تک کہ اس دنیا کی عمر تمام ہو جائے۔اگر آپ ان خیالات سے متفق ہوں اور ان کے مطابق اور موافق قواعد پر جو انجمن میں پیش کر کے پاس گئے جار ہے ہیں اور کئے جائیں گے عمل کرنے کے لئے تیار ہوں۔تو مہربانی کر کے اس کا غذ پر دستخط کر دیں بعد میں ان قواعد پر ہر ایک بہن سے علیحدہ علیحدہ دستخط لے کر اقرار و معاہدے لئے جائیں گے ؟ والانهيار لذوات الثمار من مطبوعة اس ابتدائی تحریک پر امن میں شمولیت کے لئے جو ابھی رضا کا برا نہ رنگ رکھتی تھی قادریان کی شکرہ خواتین نے دستخط کئے۔اس کے بعد حضور کے ارشاد پر ۲۵ دسمبر ۱۹۳۷یر کو یہ دستخط کرنے والی خواتین حضرت ام المؤمنین کے گھر میں جمع ہوئیں جہاں آپ نے نماز ظہر کے بعد ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔اس تقریر میں آپ نے مستورات کی انجمن کے قیام کا باقاعدہ اعلان فرماتے ہوئے اس کا نام بجنہ اماءاللہ" رکھا۔لجنہ اماء اللہ کے قواعد و ضوابط بعد ترتیب رساله تادیب النساء میں شائع ہوئے۔حضور کے افتتاحی خطاب کے بعد لجنہ اماء اللہ کی ممبرات نے متفقہ طور پر حضرت اُم المؤمنین سے درخواست کی کہ وہ اس مجلس کی صدارت قبول فرما دیں۔چنانچہ حضرت أمر المؤمنین کی صدارت میں یہ تاریخی اجلاس شروع ہوا۔لیکن آپ نے آغاز ہی میں حضرت سیده ام ناصر حرم اول حضرت خلیفة المسیح کا بازو پکڑ کر بڑی شفقت سے اپنی م جگہ انہیں صدارت کی مسند پر بٹھا دیا اور بقیہ اجلاس انہیں کی صدارت میں ہوا۔حضرت اُم المؤمنین نے کمال محبت اور شفقت اور دُعا کے ساتھ اپنی صدارت کی خلوت جو سیدہ اُمتم ناصر کو عطا فرمائی وہ تازندگی آپ ہی کے پاس رہی۔اور وفات کے دن تک یعنی اور جولائی کو یہ تک ۳۶ سال کے طویل عرصہ میں مجنات نے برابر آپ ہی کو اپنا صدر منتخب کیا۔آپ کی وفات کے بعد حضرت سیدہ مریم صدیقہ امتیم متین حرم ثالث حضرت خلیفۃ المسیح الثانی الجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے عہدہ صدارت پر متمکن ہو ئی اور نادرم تحریر بفضل تعالے آپ نہایت خوش اسلوبی سے یہ خدمت سر انجام دے رہی ہیں اور بہنہ کا قدم روز بروز ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔فالحمد لله