سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 329
۳۳۹ اخبار مشرق "گورکھپور نے لکھا:۔جماعت احمدیہ نے خصوصیت کے ساتھ آریہ خیالات پر بہت بڑی ضرب لگائی ہے اور جماعت احمدیہ میں اشیار اور درد سے تبلیغ و اشاعت اسلام کی کوشش کرتی ہے وہ اس زمانے میں دوسری جماعتوں میں نظر نہیں آتی ہے چند دن بعد پھر اسی اخبار نے یہ اعترانِ حقیقت کیا کہا۔جماعت احمدیہ کے امام و پیشوا کی لگاتا کہ تقریروں اور تحریروں کا اثر ان کے تابعین پر بہت گہرا پڑا۔اور اس جہاد میں اس وقت سب سے آگے یہی فرقہ نظر آتا ہے۔اور باوجود اس بات کے کہ احمدی فرقہ کے نزدیک اس گروہ نو مسلم کی تائید کی ضرورت نہ تھی۔کیونکہ اس فرقے سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔مگر اسلام کا نام لگا ہوا تھا اس لئے اس کی شرم سے امام جماعت احمدیہ کو جوش پیدا ہو گیا ہے۔اور آپ کی بعض تقریریں دیکھ کر دل پر بہت ہیبت طاری ہوتی ہے۔کہ ابھی خدا کے نام پر جان دینے والے موجود ہیں۔اور اگر ہمارے علماء کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ جماعت احمدیہ اپنے عقائد کی تعلیم دے گی تو وہ اپنی متفقہ جماعت میں۔۔۔۔۔۔۔ایسا خلوص پیدا کر کے آگے بڑھیں کہ ستو کھائیں اور چنے چبائیں اور اسلام کو بچائیں۔جماعت احمدیہ کے ارکان میں ہم یہ خلوص بیشتر دیکھتے ہیں۔دیانت ، ایفاء عہد، اپنے امام کی اطاعت میں یہ حجامت فرد ہے۔جناب مرزا صاحب اور ان کی جماعت کی عالی حوصلگی اور ایثار کی تعریف کے ساتھ ہم مسلمانوں کو ایسے ایثار کی غیرت دلاتے ہیں۔دیانت اور امانت جو مسلمانوں کی امتیازی صفتیں تھیں آج وہ ان میں نمایاں ہیں۔جماعت احمدیہ کی فیاضی اور ایثار کے ساتھ ان کی دیانت اور آمد و خرچ کے ابواب کی درستگی اور باقاعدگی سب سے زیادہ قابل ستائش ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ با وجود آمدن ے اخبار مشرق، گورکھپور ۵ ار تاریخ ۳