سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 315

PIA باہر ملتی ہے اس سے بہت کم بیاں کام کرنے والوں کو ملتی ہے۔اب ان کی تنخواہ میں اور بھی کمی کر دی گئی ہے۔غرباء کو بچانے کے لئے جن غرباء کو محط الاؤنس ملتا تھا وہ بند نہ کیا۔بلکہ جن کی تنخواہ 40 سے پر تھی ان کو پندرہ فی صدی اور جن کی ۱۰۰ سے اُوپر تھی اُنکی نہیں فیصدی کم کر دی گئی۔میں نے کہا ان کو قربانی کرنی چاہئیے۔اور سب نے خوشی سے منظور کر لیا اور باوجودیکہ یہاں کے لوگوں کو کم تنخواہیں ملتی ہیں اور گورنمنٹ نے دگنی تگنی کر دی ہیں مگر ہم نے اور کم کر دی ہیں۔مگر بجائے اس سے بوجھ کم ہو جانے کے ابھی تک کئی ماہ کی تنخواہیں نہیں دی گئیں۔پہلے تین ماہ کی تنخواہیں باقی تھیں اور اب پانچ پانچ ماہ کی ہیں۔اور اب حالت یہانتک ہوگئی ہے کہ چونکہ انہوں نے قرض لے کر کھایا ہے اس لئے دکانوں کا دیوالہ مکل گیا۔ادھر پانچ پانچ ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں ادھر دکانوں پر سرمایہ نہیں رہا۔۔یہاں ایسا ہو رہا ہے کہ کئی لوگوں کو کئی کئی دن کا فاقہ ہوتا ہے۔ابھی ایک شخص نے بتایا کہ میرے پاس سے ایک شخص گزر رہا تھا جو فاقہ سے تھا۔میں نے اس کی شکل سے اسے پہچانا اور فی الواقعہ کئی دن کا اسے فاقہ تھا۔اس نے کچھ دیا مگر آدھا ایک اور کو راستہ میں دے دیا۔اسی طرح ایک اور کے متعلق سنا کہ فاقہ سے بہوش ہو گیا۔اور میں نے گھر کا کھانا اسے بھیجا اور آدمی کو کہا کہ کھلا کر آنا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ایسے مخلص ہیں کہ بھوک سے مر جائیں گے اور کام نہ چھو نگے مگر کیا ہماری جماعت کے لئے یہ دعیہ نہ ہوگا کہ ایسے کا رکن بھوکے مرگئے۔تو مالی لحاظ سے نہایت نازک وقت آیا ہوا ہے اسے ま یہ وہ حالات تھے جن میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت احمدیہ کی خواتین کے سامنے تعمیر مسجد برلن کی سکیم پیش فرمائی۔آپ نے جماعت پر واضح کیا کہ ہم اپنی مالی مشکلات کو دینی ضروریات کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔آپ نے انہیں بتایا۔کہ ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء ۵ - ۱۹