سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 292
۲۹۲ آگے بڑھیں گے۔کیونکہ ملازمت تلاش کرنے والوں کی ہمارے ملک میں کمی نہیں ہے۔ایسے لوگ مسلمانوں کے اس فیصلے کو ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھیں گے اور ان کی بیوقوفی پر دل ہی دل میں بنیں گے پس سوائے اس کے کہ اس فیصلہ سے لاکھوں مسلمان اپنی روزی سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور تعلیم سے محروم ہو جاویں اور اپنے حقوق کو جو بوجہ مسلمانوں کے سرکاری ملازمتوں میں کم ہونے کے پہلے ہیں تلف ہو رہے ہیں اور زیادہ خطرے میں ڈال دیں اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔میں صرف اسی کا رروائی کا مشورہ نہ دوں گا بلکہ اس کے علاوہ میرے نزدیک مسلمانوں کو آئندہ کے لئے ایک عملی پروگرام بھی بنانا چاہیئے۔سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس معاہدہ کی پابندی کا اثر اسلام پر کیا پڑے گا۔اس سوال کا جواب دینے وقت ایک چیز نمایاں طور پر ہمارے سامنے آجاتی ہے اور وہ ان علاقوں کی نگہداشت ہے جن میں مسلمان بستے ہیں۔اور جنہیں یونان اور آرمینیہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔یونانیوں اور آرمینیوں کا تعصب اسلام سے اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس کے ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔جو کچھ ان دونوں قوموں نے پچھلے دنوں میں مسلمانوں سے کیا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات یقینی طور پر کسی جاسکتی ہے کہ ان کی حکومت میں باوجود یورپ کی تمام تسلیوں کے مسلمانوں کو امن نہ ہوگا۔اس طرح یورپ کے نئے تغیرات کے ماتحت اور کئی علاقوں میں بھی مسلمانوں کو امن نہ ہو گا۔پس اس خطرہ سے ان ممالک کے بھائیوں کو بچانے کے لئے فورا بلا تاخیر ایک عالمگیر لجنہ اسلامیہ قائم ہو جانی چاہیئے۔جس کا کام یہ ہو کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی مذہبی حالت کی اطلاع رکھے اور اس بات کی خبر رکھے کہ دنیا کے