سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 283
PAY مسلمانان ہند پر ان کے مذہب ان کے ہم مذہبوں اور خود اپنے نفسوں کی طرف سے یہ ذمہ داری عاید ہے کہ وہ چند لائق آدمی تمام ذو نفوز ممالک میں بطور اپنے وکلاء کے مقرر کریں۔یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو فوری توجہ چاہتی ہے۔یہ تمام ہندوستانیوں کا بلا تفریق مذہب فرض ہے کہ وہ اسلام کی عربت کو بدنامی کے صدمہ سے بچائیں اور جب کبھی انہیں کسی مفید نتیجہ کی امید ہو، مسلمانوں کے لئے بھی اس انصاف اور حق جوئی کا مطالبہ کریں جس کا مطالبہ دوسری اقوام کے لئے کیا جاتا ہے۔لیکن اس میں کوئی کلام نہیں کہ خود سلمانوں پر ایک ایسی ذمہ داری ہے کہ جسے انہیں بغیر تا خیر اور بغیر پہلوی کے بجالانا چاہیے۔اگر وہ اس ذمہ داری کے سجا لانے سے غفلت کریں گے تو اس کا نقصان خود اُٹھائیں گے یہ لے یہ اقتباس پیش کرنے کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی غیرت کوان الفاظ میں جھنجوڑ کر بیدار کرنے کی کوشش کی : یہ ایک ہندو کی آواز ہے بلکہ ایک آریہ کی آواز ہے جو مسلمانوں کو خوانفلات سے جگاتی ہے اسلام کی حالت ایسی گر گئی ہے۔کہ اس سے مذہبی مخالفت رکھنے والے لوگ اب اسے ہوشیار کرتے ہیں۔اور اس کی حالت ان کے رحم کو جذب کرتی ہے۔بہت سا وقت ضائع ہو چکا ہے اور تھوڑا باقی ہے اگر اب بھی شستی کی گئی تو کسی بہتری کی امید رکھنی فضول ہے جب تک اسلام بہیمیت اور دنیا کے لئے ایک مہلک بیماری کے رنگ میں دیکھا گیا اس وقت تک مغربی بلا د سے کسی انصاف کی امید رکھنا ایک فضول امر ہے اور جب تک دوسرے بلا د خصوصا امریکہ کی رائے انگلستان کے ساتھ نہ ہو اس وقت تک برطانیہ کی آواز کے سنے جانے کا خیال بھی کرنا ایک وہم ہے اس یہ مضمون مسلمانوں کے اس تاریخی نمائندہ اجلاس میں بڑی بے دلی سے سنا گیا گویا کہنے والے کی زبان اور تھی اور سننے والوں کی زبان اور ہنگامہ خیز خطاب کی توقع رکھنے والے دلوں پر بھلا عقل و دانش کی یہ کبھی ہوئی آواز کیا اثر کر سکتی تھی۔ہر چند کہ یہ تقریر عقل اور جذبات کے توازن کا ایک شاہکار تھی۔لیکن سننے والے کسی اور ہی خیال میں مگن تھے۔انہیں ایسے شعلہ بیانوں کی ضرورت تھی۔الفضل قادیان ۲۷ ستمبر به متن الفضل قادیان ۲۷ ستمبر شائه منا