سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 279 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 279

ایسی آراء کا اظہار کیا کہ از سر نو عثمانی حکومت کی حدود کو شمال میں یورپ کی بعض ریاستوں اور جنوب میں مصر و شام اور حجاز تک ممتد ہونا چاہیئے تو کمال اتاترک نے اس خیال کو بھی بڑی سختی سے رد کیا اور واضح کیا کہ ترکی کی موجودہ تمام مصیبتیں اسی غلط جذباتی طرز فکر کا نتیجہ ہیں۔سوائے اس کے کہ ہم نے عرب اور شمالی یورپ میں نفرت کی فصلیں کاٹی ہیں ہمیں اس حکومت کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا لہذا ترکی کی انقلابی حکومت نہ تو خلافت کا لبادہ اوڑھے گی اور نہ ہی اپنی حدود ترکی سے باہر کسی علاقے تک مند کرے گی یا انے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس مضمون میں ایک اور نہایت ہی قیمتی مشورہ جس تک کسی اور راہ نما کی نظر نہیں پہنچی تھی یہ دیا کہ محض برطانوی حدود میں کوئی تحریک چلانا ہرگزنہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔بلکہ اس سے مطلب برداری کی سجائے برعکس نتیجہ نکلنے کا احتمال ہے۔اس وقت تریکی کا فیصلہ صرف برطانیہ کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ فرانس اور امریکہ کی بڑی طاقتیں بھی اس میں بڑا یہ کی شریک ہیں ان تینوں میں سے برطانیہ کا رویہ ترکی کے حق میں ہے اور امریکہ اور فرانس کا شدید مخالفانہ۔اگر اس وقت انگریزوں کے خلاف تحریک چلائی جائے تو اول تو فائدہ کی بجائے نقصان پہنچے گا کہ ان کی ہمہ سہ دیاں بھی مسلمانوں سے جاتی رہیں گی۔دوسرے یہ کہ اگر انگریز چاہے بھی تو تنہا امریکیہ اور فرانس کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔لہذا فرانس اور امریکہ کی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔جو ایک محنت طلب کام ہے۔اس حصہ مضمون پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے حالات کا حسب ذیل نہایت قیمتی جائزہ پیش کیا۔آپ لکھتے ہیں :۔پس اگر اس امر میں کامیاب ہونے کی کوئی امید ہوسکتی ہے تو صرف اس طرح کہ ان دیگر اقوام کی رائے بھی بدلی جاوے جو اس وقت مسلح کی کا نفرنس میں حصہ لے رہی ہیں۔خصوصا امریکہ اور فرانس کی۔اگر ان دونوں ملکوں کی رائے بدل دی جائے تو پھر کوئی مشکل نہیں رہتی۔مگر ایسی کوشش کرنے سے پہلے یہ سوال حل کرنا چاہیئے کہ ان اقوام کو ترکی سے اس قدر نفرت کیوں ہے۔کیونکہ جو خیالات ان کے ان فیصلول کے محرک ہیں انہی کے دورہ کرنے سے کامیابی ہو سکتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں جرمن قوم جو جنگ کی اصل بانی ہے اور جس نے جنگ کے دوران میں انسانیت اور آدمیت کے تمام اصول کو پامال کر دیا تھا وہ صرف ایک چھوٹا سا ٹکڑا اجو وہ بھی فرانس سے لیا ہوا تھا۔چھوڑ کر اور کسی قدر علاقہ GRAY WOLF PAGE