سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 247

ہے کہ اگر اسے بتانے جائیں تو اپنے نقصان کا خطرہ ہو۔یا ہو سکتا ہے کہ یہ خطرہ ہو کہ اگر بتایا تو ڈاکو ہمیں مار دیں گے۔پس جب باوجود اس کے کہ اس ڈاکو کو اپنے ارادہ سے باز رکھنے میں ہمیں خطرات ہیں۔اگر ہم اس کو باز نہیں رکھتے یا ایسے لوگوں کو اطلاع نہیں دیتے جو اُسے باز رکھ سکتے ہیں، ہم زبیدہ الزام آجاتے ہیں تو پھر خدا تعالے جو طاقتور اور قدرت والا ہے اس کو کسی کا ڈر نہیں۔اور کوئی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا اس پر زیادہ الزام آتا ہے کہ وہ علم رکھنے کے باوجود کیوں ڈاکو کو روک نہیں دیتا یا جس کے گھر ڈاکہ پڑنا ہو اس کو نہیں بتا دیتا تا کہ وہ پنی حفاظت کا سامان کرلے۔یہ عجیب بات ہے کہ انسان تو معذور بھی ہو کیونکہ کوئی نہ کوئی وجہ اس کی معذوری کی ہو سکتی ہے وہ با وجود اس کے پکڑا جائے مگر خدا پر با وجود اس کے قادر ہونے کے کوئی الزام نہ آئے۔مگر یہ اعتراض محض قلت تدیر کا نتیجہ ہے اس لئے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق اس مثال کا پیش کرنا ہی غلط ہے اور دنیا میں انسان کی پیش کی غرض کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ بنائی گئی ہے خدا تعالے کا تعلق جو بندوں سے ہے اس کی صحیح مثال یہ ہے کہ لڑکوں کا امتحان ہو رہا ہے اور سپرنٹنڈنٹ ان کی نگرانی کر رہا ہے۔اس کے لئے کیا یہ جائز ہے کہ جو لز کا غلط سوال کر رہا ہو اس کو بتا دے؟ نہیں پس جب انسان کو دنیا میں اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ اس کو امتحان میں ڈال کر انعام کا وارث بنایا جائے۔تو اگر اس کے غلطی کرنے پر اسے بتا دیا جائے کہ تو فلاں غلطی کر رہا ہے تو پھر امتحان کیسا ؟ اور انعام کس کا ؟ اس معاملہ میں خدا تعالے کا جو تعلق بندوں سے ہے وہ وہی ہے جو اس سپرنٹنڈنٹ کا ہوتا ہے جو کمرہ امتحان میں پھر رہا ہو اور جو دیکھ رہا ہو کہ لڑ کے غلط سوال بھی حل کر رہے ہیں اور صحیح بھی۔پس باوجود علم کے اللہ تعالے کا بندہ کو فردا فردا نہ روکتا اس کی شان کے خلاف