سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 220
۲۲۰ اس قسم کی آوازیں اُسے آنے لگ جاتی ہیں اور وہ خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہیں نہ کہ شیطان کی طرف سے۔اور اس وجہ سے بالکل مورت ہوتی ہیں۔مگر با وجود اس کے ان رؤیاء کا آنا یا الہامات کا ہونا انتلار کے طور پر ہوتا ہے۔کیوں ؟ اس کا جواب جو کچھ صوفیاء نے دیا ہے اور جو نہایت سچا جواب ہے۔میں آپ کو سُناتا ہوں۔فتوحات مکیہ میں محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ ایک وقت انسان پر ایسا آتا ہے جبکہ اس کے لئے ترقیات کے دروازے کھلنے والے ہوتے ہیں۔اس وقت اس کی سخت خطرناک طور پر آزمائش کی جاتی ہے اور بہت کم ہوتے ہیں جو اس میں پورے اُترتے ہیں اور وہ یہ کہ ایسے انسان کو ایسے مقام پر کھڑا کیا جاتا ہے جہاں سے وہ محمد ابراہیم موسی علینی انبیاء علیہم السلام کے ساتھ جو کچھ خدا تعالیٰ کلام کرتا ہے وہ بھی سنتا ہے اور بعض دفعہ اس سے دھوکا کھا کر اپنے آپ کو مخاطب سمجھ لینا ہے اور اپنے آپ کو ان ناموں کا مصداق سمجھ لیتا ہے اور اپنی ذات کو مخاطب قرار دے لیتا ہے حالانکہ اگر وہ اپنی ذات پر غور کرے تو اُسے معلوم ہو جائے کہ میں کہاں اور یہ نام کہاں۔پنجابی میں کہتے ہیں :۔ایہہ منہ تے مسمراں دی دال " یعنی یہ منہ اور مسور کی دال۔تو وہ اگر اپنے آپ کو دیکھے اور اپنی حالت پر نظر کرے، تو اُسے صاف پتہ لگ جائے کہ مجھے مخاطب نہیں کیا جا رہا بلکہ ان ناموں کے مخاطب کوئی اور ہی ہیں۔کیونکہ وہ صفات جو ان ناموں کے انبیاء میں پائی جاتی ہیں وہ اس میں نہیں ہوئیں جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ میں خدا تعالے کا مخاطب نہیں۔ورنہ خدا تعالیٰ ان ناموں کے ساتھ ان ناموں والے کے علوم اور ان کی صفات مجھے کیوں نہ دنیا سے اس مضمون کے آخر پر آپ نے الہامات اور رویا، وکشون کی صداقت معلوم کرنے کے کچھ طریق بیان فرمائے اور اس ذکر میں اپنی ایک رؤیاء بیان کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ کس طرح اللہ تعالٰی ره حقيقة الرؤياء مشتاده