سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 213

بعض اہم تقاریر اور تصانیف ۶۱۹۲۰ - ۱۹۱۷ ملہ سے لے کر مسلئہ تک حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جو خطبات اہم تقاریر اور تصانیف فرمائیں ان میں سے چند کا ذکر یہاں کسی قدر اختصار سے کیا جاتا ہے۔حقيقة الرؤياء ۹۱۷لہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے زیر عنوان حقیقۃ الرؤیاء ایک بلند پایہ علمی تقریر فرمائی۔اس میں سب سے پہلے تو آپ نے الہام، کشف اور رویاء کی ایک عام فہم تعریف بیان کی۔اور اس کے بعد ایسے جدید تحقین کی علمی تحقیق کا خلاصہ پیش کیا جنہوں نے انسانی خوابوں کے نظام پر غور و فکر کے علاوہ سائنسی طور پر تجربے کرنے کے بعد کئی قسم کے نئے انکشافات کئے تھے۔ان کی تحقیق کا خلاصہ یہ بنتا تھا کہ چونکہ رویاء دکشون وغیرہ کے محرکات انسانی جسم میں موجود ہیں جن کا تجربہ سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اس لئے کسی غیر جسمانی محترک کا تصور لغو اور جاہلانہ ہے۔حضور جب بھی گفتگو فرمایا کرتے تو یہ طرز اختیار کرتے کہ پہلے مخالف کے سخت ترین اعتراضات کو ایسے عمدہ رنگ میں پیش فرماتے کہ اس سے بہتر شاید وہ خود بھی بیان نہ کر سکتا ہو۔یہی طرز کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی تھی۔اس لئے جیسا اوقات صحابہ کرام کو حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تقریر کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی یاد بہت ستاتی اور وہ بے کل ہو کر بے اختیار چشم شیر ب ہو جاتے۔چنانچہ آپ نے جدید لامذہب مفکرین اور محققین کے خیالات اور تجارب کے ماحصل کو ایسے عمدہ رنگ میں پیش فرمایا کہ گویا وہ اعتراضات فی ذاتہ اتنے ٹھوس اور مضبوط ہیں کہ ان کا کوئی عقلی جواب ممکن نہیں۔اس کے بعد آپ نے اُن تجارب کی صحت کو تسلیم کرنے کے باوجود اسلامی نظریہ رویاء و کشون کی حقیقت کو اس عمدگی سے پیش کیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یہی نہیں بلکہ ان کے تجارب کے ماحصل کو اسلام کی مخالفت کی