سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 203
تقسیم لنگر خانہ بند کرد و به نظارت امور عامہ بند کر دو۔نظارت اصلاح دارشاد کے کارکنوں کو رخصت کر دو اور اخراجات کے بجٹ کو دس لاکھ ننانوے ہزار پر لے آؤ۔ورنہ یہ کہ خرچ تو وہی رکھو اور آمد تیم کر لو یہ وہی بات ہے جیسے کوئی شخص ایک ناممکن چیز کی خواہش کرے یا جیسے بچے روتے ہیں تو کہتے ہیں ستار سے دے دو۔دس لاکھ ننانوے ہزارہ میں بارہ لاکھ ننانوے ہزارہ کے اخراجات کا بجٹ پورا کرنا بھی ستارے لانے والی بات ہے یہ ایک ناممکن العمل بات ہے اس لئے اس تجویز پر رائے دیتے وقت سوچ لیا جائے کہ آیا اس بجٹ کو نا منظور کیا جائے یا رہنے دیا جائے۔کیونکہ تخفیف کے بعد خرچ نہیں چل سکتا۔کہا گیا ہے کہ اس کی ضرورت ہے۔ٹھیک ہے۔اس کی ضرورت ہے لیکن اگر کوئی ضرورت ہو تو اس کے لئے آمد بڑھانی جانی چاہیئے۔دعائیں کرتے رہو اللہ تعالے کو سب طاقت ہے اور وہ سب برکتیں دے سکتا ہے۔ایک وقت وہ تھا کہ جب مجھے خلیفہ بنایا گیا۔تو خزانہ مقروض تھا اور اس میں صرف اٹھارہ آنے تھے اور اب آپ کا سٹ تحریک کے سالانہ بجٹ کو ملا کر انتیس لاکھ روپے کا ہے۔اب دیکھو گیا اشارہ آنے اور کجا انتیس لاکھ روپیہ۔تو اللہ تعالیٰ میں بڑی طاقت ہے۔مجلس شوری کے فصیلوں کی اہمیت مجلس شوری کے فیصلوں کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا :- مجلس شوری میں جو فیصلہ ہوتا ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ خلیفہ کا فیصلہ ہے کیونکہ ہر امر کا فیصلہ مشورہ لینے کے بعد خلیفہ ہی کرتا ہے اس لئے ان فیصلوں کی پوری پوری تعمیل ہونی چاہیئے۔جب تک سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء ص ۸ - ۹۱