سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 202

٢٠٢ چاہئیے۔مجھے تو یہ ذریعہ حاصل ہے کہ اخبار ہے اور اخبار والے میری تقریریں اور خطبے نوٹ کر کے شائع کرتے اور جماعت تک پہنچاتے ہیں مگر صوبہ کی جماعتوں کے امراء کو یہ ذریعہ حاصل نہیں کہ ایک جگہ اپنے جن خیالات کا وہ اظہار کریں وہ سارے صوبہ کی جماعتوں تک پہنچ جائے اس لئے باوجود اس کے کہ اکثریت دوسری طرف گئی ہے میں یہ فیصلہ کرنا ہوں کہ اپنے صوبہ میں جہاں بھی پراونشل امیر ہو جمعہ کا خطبہ دینے کا حق اسے مقدم طور پر حاصل ہوگا۔اس کی موجودگی میں اس کی اجازت سے لوکل امیر یا کوئی اور شخص خطبہ پڑھا سکتا ہے۔ہاں جہاں پر پراونشل امیر موجود نہ ہو یا اس غرض کے لئے کوئی دوسرا امام مرکز سلسلہ کی طرف سے مقرر نہ ہو تو خطبہ دینے کا اقول حق لوکل امیر کو حاصل ہو گا ہائے ثانیا: مجلس شوری میں یہ تجویز پیشی تھی کہ کراچی اور لاہور اور راولپنڈی کو مقامی ضروریا کے لئے ان کے چندوں کا تیسرا حصہ بطور گرانٹ دیا جائے۔جماعت کے مالی حالات کے لحاظ سے یہ تجویز اپنی موجودہ صورت میں درست نہ تھی لیکن اس تجویز کو اپنے اختیارات کے تحت رو کرنے کی سجائے آپ نے اس تجویز کے ناموزوں ہونے کے دلائل دیئے اور اس کے نقصان دہ پہلوؤں کی جماعت کے نمائندگان کے سامنے وضاحت فرمائی۔چنانچہ اس تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- " چندوں کو متے نظر رکھتے ہوئے اگر اس تجویز کو منظور کر لیا جائے، تو قریبا دو لاکھ روپیہ بجٹ آمد سے کم ہو جاتا ہے۔ہمارا کل بجٹ بارہ لکھ ننانوے ہزار کا ہے اور اگر یہ دو لاکھ روپیہ اس سے نکال دیا جائے تو آمد دس لاکھ ننانوے ہزارہ بلکہ اس سے بھی کم رہ جاتی ہے۔اور اس دس لاکھ ننانوے ہزار روپیہ کی آمد سے بارہ لاکھ نانو سے ہزار کے اخراجات چلانا کسی انجمن کی طاقت سے باہر ہے۔در حقیقت یہ بحث اخراجات کی کمیٹی کے سامنے اُٹھانی چاہیئے تھی کہ اس قدر اخراجات کم کر دیئے جائیں۔کالج بند کر دو۔زنانہ کا لج بند کر دو س مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء مره