سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 187
ہے۔کہ لوگوں کا رجحان کدھر ہے۔یوں تو بہت نگرانی کرنی پڑتی ہے کہ غلط راستہ پر نہ پڑ جائیں۔مگر جب شوری ہو تو جب تک اعلیٰ درجہ کے دلائل عام رائے کے خلاف نہ ہوں۔لوگ ڈرتے ہیں کہ اس پر عمل کریں اور اس طرح خلیفہ کی نگرانی میں سہولت ہو جاتی ہے۔مجلس شوری کا طریق کار ا خلیفہ عام ہدایات پیش کرے گا کہ کن باتوں پر مشورہ لینا ہے اور کین - باتوں کا خیال رکھنا ہے۔۲- اس کے بعد ہر محکمہ کے لئے سب کمیٹیاں مقرر ہو جائیں گی۔کیونکہ فورا رائے نہیں دینی چاہیئے۔بلکہ تجربہ کار بیٹھ کر سکیم تجویز کریں اور پھر اس پر بحث ہو۔پہلے کمیٹی ضرور ہونی چاہیے جیسے معاملات ہوں اُن کے مطابق وہ غور کریں میسکیم بنائیں پھر اس پر غور کی جائے۔کمیٹی پوری تفاصیل پر بحث کرے اور پھر رپورٹ کرے۔وہ تجاویز مجلس عام میں پیش کی جائیں اور ان پر گفتگو ہو۔۳۔جب تجاویز پیش ہوں تو موقع دیا جائے کہ لوگ اپنے خیالات پیش کریں کہ اس میں یہ زیادتی کرنی چاہیے یا یہ کمی کرنی چاہیئے۔یا اس کو یوں ہونا چاہیئے۔تینوں میں سے جو کہنا چاہے کھڑے ہو کر پیش کر دے۔ان تینوں باتوں کے متعلق جس قدر تجاویز ہوں ایک شخص یا بہت سے لکھتے جائیں پھر ایک طریق یا ایک طرز کی باتوں کو لیکر پیش کیا جائے کہ فلاں یہ کمی چاہتا ہے اور فلاں یہ زیادتی۔اس پر بحث ہو مگر ذاتیات کا ذکر نہ آئے۔اس بحث کو بھی لکھتے جائیں۔جب بحث ختم ہو جائے تو وہ اس وقت یا بعد حلفیہ بیان کردے ، کہ یہ بات یونی ہو یا لے مجلس شوری کے طریق آغاز کے متعلق ہدایت دیتے ہوئے آپ نے فرمایا۔ہماری مجلس کی ابتداء میں ہمیشہ دُعا ہوتی ہے۔آئندہ میں اس نے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ ص۱۷۱