سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 186

JAY لیمنٹ کی نسبت شوری کے طریق کی فضیلت واضح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : پارلیمینٹ میں یہی ہوتا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ رائے نہ ملی تو گورمنٹ ٹوٹ جائے گی۔اس لئے سارے رائے دے دیتے ہیں تو عام طبائع ایسی نہیں ہوتیں کہ صحیح رائے قائم کر سکیں۔اس لئے اکثر لوگ دوسروں کے پیچھے چلتے ہیں اگر کہیں کہ وہ اہل الرائے ہوتے ہیں تو بھی یہی ہوتا ہے کہ بڑے کی رائے کے نیچے ان کی رائے دب جاتی ہے اس لئے یہی ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے دونوں کا مقابلہ ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ہر وقت مقابلہ رہتا ہے۔مگر شوری میں یہ بات نہیں ہوتی کیونکہ اس میں پارٹی کا خیال نہیں ہوتا۔۔۔۔۔پیس چونکہ پارٹی ہوتی نہیں اور خلیفہ سب سے تعلق رکھتا ہے۔اس لئے اس کا تعلق سب سے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے باپ بیٹے کا بھائی بھائی تو لڑ پڑتے ہیں مگر باپ سے لڑائی نہیں ہو سکتی۔چونکہ خلیفہ کا سب سے محبت کا تعلق ہوتا ہے۔اس لئے اگر ان میں لڑائی بھی ہو جائے تو وہ دور کر دیتا ہے اور بات بڑھنے نہیں پاتی کاہے شوری کے فوائد گنواتے ہوئے فرمایا :- اب میں شوری کے فوائد بیان کرتا ہوں۔- کئی نئی تجاویز سوجھ جاتی ہیں۔۲۔مقابلہ کا خیال نہیں ہوتا اس لئے لوگ صحیح رائے قائم کرنے کی کوشش " کرتے ہیں۔۔یہ بھی فائدہ ہے کہ باتوں باتوں میں کئی باتیں اور طریق معلوم ہوتے ہیں۔۔یہ بھی فائدہ ہے کہ باہر کے لوگوں کو کام کرنیکی مشکلات معلوم ہوتی ہیں۔في۔یہ بھی فائدہ ہے کہ خلیفہ کے کام میں سہولت ہو جاتی ہے۔وہ بھی انسان ہوتا ہے اس کو بھی دھوکا دیا جا سکتا ہے۔اس طرح معلوم ہو جاتا ے رپورٹ مجلس مشاورت ۹۲۲له صدا