سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 182

TAY کام جاری کرنا تو مفید سمجھتے ہیں مگر یہ خیال کر کے کہ اگر جاری ہوگیا تو فلاں اس پر مقرر ہوگا اس کی مخالفت کرتے ہیں۔یہ بد دیانتی سے بھی کرتے ہیں اور کبھی اس شخص کو مناسب نہیں سمجھتے۔مگر سجائے اس کے کہ اس کے تقریر کا جب سوال آئے تو اس وقت بحث کریں۔یا اس طرح کہیں کہ اس کو جاری نہیں کرنا چاہیے کیونکہ فلاں کے سوا اور کوئی نہیں جسے اس کام پر لگا یا جاوے اور وہ موزوں نہیں۔یہ کھتے ہیں یہ کام ہی موزوں نہیں۔چونکہ یہ بد دیانتی ہے اس لئے یہ نہیں ہونا چاہیئے۔یا اس طرح کہ ایک مشن مقرر کرنا ہے جس کے لئے فلاں کو مقرر کرتا ہے۔اس پر ان کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ جائے مگر بحث یہ شروع کر دیتے ہیں کہ مشن قائم کرنا ہی ٹھیک نہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔اصل معاملہ میں صحیح رائے دینی چاہئے۔-4 جو سچی بات ہو اُسے تسلیم کرنے سے پر ہیز نہیں کرنا چاہیئے خواہ اُسے کوئی پیش کرے مثلاً ایک بات ایسا شخص پیش کرے جس سے کوئی اختلاف ہو مگر ہو سیتی۔تو اگر کوئی اس کو اس لئے چھوڑتا ہے کہ پیش کرنے والے سے اس کی مخالفت ہے تو بد دیانتی کرتا ہے۔چاہئیے کہ کوئی رائے قائم کرتے وقت جلد بازی سے کام نہ لے۔کئی لوگ پہلے رائے قائم نہیں کرتے مگر فورآ بات سن کر رائے ظاہر کرنے لگ جاتے ہیں۔چاہیے کہ لوگوں کی باتیں سنیں۔ان کا موازنہ کریں۔اور پھر رائے پیش کریں۔اور نہ ایسا ہو کہ دوسروں کی رائے پر انکار کریں۔ایک تو میں نے یہ کہا تھا کہ دوسرے کے لئے رائے نہ دی جائے، اور ایک یہ کہ دوسرے کے کہنے پر رائے قائم نہ کی جائے۔مثلاً ایک کے فلاں کام میں خرابی ہے۔دوسرا بغیر خرابی معلوم کئے کہے کہ ہاں خرابی ہے۔اُسے خود اپنی جگہ تحقیقات کرنی چاہیئے۔کبھی اس بات کا دل میں یقین نہ رکھو کہ ہماری رائے مضبوط