سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 181
JAI کے ساتھ عمل کی ضرورت ہے۔اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ آج بھی اور کل بھی اور پھر بھی جب کبھی مشورہ ہو ذاتی باتوں کو دل سے نکال دیا جائے۔لوگوں نے بعض باتیں دل میں بٹھائی ہوتی ہیں کہ یہ منوائیں گے۔لیکن مشورہ کے یہ معنی نہیں کہ ایسی باتوں کو بیان کرو بلکہ یہ ہیں کہ اپنے دماغ کو صاف اور خالی کر کے بیٹھو اور صحیح بات بیان کرنی چاہئیے۔عام طور پر لوگ فیصلہ کر کے بیٹھتے ہیں کہ یہ بات منوانی ہے اور پھر اس کی پہنچ کرتے ہیں۔مگر ہماری جماعت کو یہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ صحیح بات مانتی اور منوانی چاہیئے۔۔یہ کہ جب مشورہ کے لئے بیٹھیں تو مقدم نیست یہ کر لیں کہ جس کام کے لئے مشورہ کرنے لگے ہیں اس میں کس کی رائے مفید ہو سکتی ہے نہ یہ کہ میری رائے مانی جائے۔۴۔یہ بات مدنظر رکھنی چاہیئے کہ آج بھی اور آئندہ بھی ہر وقت جب مشورہ لیا جائے کسی کی خاطر رائے نہیں دینی چاہئیے۔بعد میں بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ میری تو یہ رائے نہ تھی مگر فلاں دوست نے کہا تھا اس لئے دی تھی۔روپیہ غبن کرنا اتنا خطرناک نہیں جتنی یہ بات خطرناک ہے مگر یہ ایسی آسان سمجھی جاتی ہے کہ بڑے بڑے مرتبہ بھی اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔ہندوستان کی کونسل کا واقعہ ہے کہ ایک ممبر نے کہا میری یہ رائے نہ تھی مگر فلاں دوست نے چونکہ کہا تھا اس لئے میں نے اس کی خاطر رائے دے دی۔تعجب ہے اس نے اس بات کے بیان کرنے میں بھی کوئی حرج نہ سمجھا مگر یہ سخت بد دیانتی ہے۔ہماری جماعت کے لوگ اس سے بچیں اور کسی کی خاطر نہیں بلکہ جو رائے صحیح سمجھیں وہ دیں۔یخسی اور حکمت کے ماتحت رائے نہیں دینی چاہیے بلکہ یہ مد نظر ہو کہ جو سوال درپیش ہے اس کے لئے کونسی بات مفید ہے اس کی تشریح میں مثال دیتا ہوں۔مثلاً ایک سوال پیش ہے کہ فلاں