سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 172

۱۷۲ اس سے جماعت میں بُزدلی پیدا ہوگی اور جھوٹی شکایات کا ایک ایسا سلسلہ چل پڑے گا۔جس کی روک تھام ممکن نہ رہے گی۔اگر شکایت کنندہ اپنا نام اور یہ و غیرہ درج کرتا لیکن امیر جماعت کی وساطت کے بغیر شکایت بھیجتا تو حضور فوری طور پر امیر متعلقہ سے اس بارہ میں وضاحت طلب فرماتے۔حضور عموما یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ شکایت اس منتظم کی وسات کے بغیر کی جائے جس کے خلاف وہ شکایت کر رہا ہے اس خطرہ کے ازالہ کے لئے کہ شکایت کہیں راستہ میں روک نہ لی جائے بلا وجہ تاخیر سے پہنچنے والی شکایات کی نقل براہ راست بھیجوانے کے طریق کو پسند فرماتے۔چنانچہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ اگر شکایت کنندہ کوئی صائب الرائے شخص ہوتا اور شکایت میں سرسری مطالعہ ہی سے کوئی وزن نظر آتا تو متعلقہ منتظم کی طرف سے اصل شکایت پہنچنے کا انتظار کئے بغیر فوری رپورٹ طلب فرمالیا کرتے۔اس طریق پر امراء کو یہ حق حاصل تھا کہ نائب ناظروں یا ناظروں کے خلاف شکایت کریں لیکن ہر دو صورت میں حضور ہر گز یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ شکایت کنندہ ادب کے پہلو کو نظر انداز کردے یا کوئی ایسی زبان یا طرز کلام اختیار کرے جس سے افسر صیغہ کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا احتمال ہو۔بڑی بڑی جماعتوں کے امراء میں سے ایسے امراء جن کو جماعت کی غیر معمولی خدمت اور تعلیم و تربیت کا موقع ملا ہو حضور ان کو خاص احترام کی نظر سے دیکھتے اور جماعت میں بھی مختلف زنگ میں اُن کی عزت کو قائم فرماتے تاکہ جماعت میں اچھے کارکنان کے احترام کا جذبہ پیدا ہو بعض اوقات ایسے امراء کو اس بات کی اجازت دیتے کہ مناسب حدود کے اندر رہتے ہوئے کسی ایسے ناظر کے کام پر کھل کر تنقید کریں جس کی کوتاہی کی وجہ سے کسی اہم جماعتی مفاد کو نقصان پہنچا ہو اور جماعت کی تربیت کے لئے ضروری ہو کہ اس معاملہ پر کسی قدر تفصیل سے بحث کی جائے۔چنانچہ مجلس مشاورت کی کارروائی میں قارئین کو بعض اوقات ناظروں پر ایسی سخت تنقید نظر آئینگی جس کی عام حالات میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اجازت نہیں دیا کرتے تھے اسی طرح جب تنقید کرنے والے امراء کے عمومی مزاج اور کردار پر نظر ڈالیں تو ان کی اس غیر معمولی تنقید پر مزید تعجب ہوگا کیونکہ ایسی تنقید کرنا عموماً ان کی عادت میں داخل نہ تھا۔کئی مرتبہ میں نے محسوس کیا کہ بعض دوست کم فہمی میں ایسے مواقع سے غلط نتیجہ اخذ کرتے ہوئے سلسلہ کے مرکزی کارکنان پر مشاورت میں تنقید شروع کر دیتے گویا دنیا کی کسی پارلیمنٹ میں وزراء کی گوشمالی کی جارہی ہو تو حضور ایسے موقع پر فوری طور پر ان کو سمجھا کر سلسلہ کلام بند کر دیتے اگر ناظر کی