سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 151

101 کارکنان کے حقوق کی حفاظت اور قدردانی تجویز :- جب کوئی کارکن بالا افسر کے پاس کسی فیصلہ کی اپیل کرے تو درمیانی افسر کوحق نہیں کہ وہ اسے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک اپنے پاس روک رکھے۔اس عرصہ میں بہر حال اسے اپنی رپورٹ پیشیں کر دینی چاہیئے۔حضور نے فرمایا :- اس بارہ میں ہمارا تجربہ بہت تلخ ہے۔میرے پاس کئی شکایات پہنچی ہیں کہ صدر انجمن کارکنوں کے کاغذات کو نا واجب طور پر روک لیتی ہے بعض کا غذات تو میرے سامنے سال سال اور ڈیڑھ ڈیڑھ سال بعد لائے گئے ہیں اور اس تاخیر کی وجہ کوئی نہیں سوائے اس کے کہ وہ اسے چونکہ اپنے خلاف سمجھتی ہے اس لئے نہیں چاہتی ، کہ پیش ہوں حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ اس کے خلاف ہی فیصلہ ہو مثلاً یہی واقعہ جو مرزا ناصر احمد صاحب نے پیش کیا ہے اگر یہ میرے سامنے پیش ہوتا تو یقینا ناصر احمد کے خلاف فیصلہ کرتا۔کسی کارکن کو بحق نہیں کہ کسے میں فلاں حکم کی تعمیل نہیں کرتا۔ہاں وہ یہ لکھ سکتا ہے کہ چونکہ مجھے اپیل کا حق ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ میری اپیل منتظور ہوگی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے حق ہے کہ اپیل کے فیصلہ تک اس کی تعمیل نہ کروں۔اگر میری یہ رائے صحیح نہیں تو مجھے بتا دیا جائے کہ میں حکم کی تعمیل کروں۔لیکن جو الفاظ بیان کئے گئے ہیں وہ بغاوت کا رنگ رکھتے ہیں اس کاغذ کو روک رکھنے کی کوئی وجہ نہ تھی سوائے اس کے کہ نظارت نے سمجھا کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بریخت افسوس کی بات ہے۔بہر حال کارکنوں کے کاغذات کو اتنا اتنا عرصہ تک دیا چھوڑ نا کسی طرح بھی جائزہ نہیں۔میرے پاس تو جو کا غذات محکمانہ رنگ میں اپیل کے آتے ہیں